سائنس مذہب کے راستہ پر
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
1900ء میں پلانک نے کوانٹم کا انکشاف کیا اور بتایا کہ توانائی اور مادی نظام کی حالتوں میں تبدیلی مسلسل نہیں بلکہ ایک خاص قلیل ترین مقدار یعنی کوانٹم کے اضضاف (multiples) کے متناسب ہوتی ہے۔ اس انکشاف کے بعد قائم ترین زمانہ سے طبیعی کائنات میں تغير وتبدل کے مسلسل اور تدریجی ہونے کا جو تصور چلا آ رہا تھا، وہ ختم ہو گیا اور اس کی وجہ سے نیوٹن کی میکانکس میں ایک غیر معمولی انقلاب رونما ہوا۔ ایٹم کے متعلق 1895ء تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ مادہ کا سب سے چھوٹا ذرہ ہے جس کی مزید تقسیم نہیں کی جا سکتی۔ مگر اس کے بعد پتہ چلا کہ ہر ایٹم کے اندر بہت سے اور چھوٹے ذرے ہوتے ہیں جن کو الیکٹرون، پروٹون نیوٹرون وغیرہ کہتے ہیں۔ کسی ایٹم کا مادہ مسلسل پھیلا ہوا نہیں ہوتا بلکہ یہ ذرے اس کے اندر نظام شمسی کی طرح ترتیب دیے ہوتے ہیں اور چند معینہ مداروں پر حرکت کرتے رہتے ہیں۔ ایٹم کے مختلف ذروں کے درمیان اسی طرح وسیع خلا ہوتا ہے جیسے سورج اور اس کے تابع سیاروں کے درمیان۔ ایٹم کے مرکزی حصہ میں، جس کو نیوکلیس کہا جاتا ہے، اس کا تقریباً تمام مادہ مرتکز ہوتا ہے اور اس کی شکست وریخت سے ایٹم کی ماہیت بھی بدل جاتی ہے اور ایئٹی توانائی بھی حاصل ہوتی ہے۔ اب تو ایسے ذروں کی کثیر تعداد دریافت ہوئی ہے جو دو مادی ذروں یا ایک مادہ ذرہ اور اشعاع (radiation) کے باہمی تعامل کے دوران ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ اس طرح جدید طبیعیات نے قدیم مادہ کی بنیاد ہی سرے سے منہدم کر دی۔ علمی دنیا کا یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ جب نیوٹن کے نظریوں پر مبنی طبیعیات انیسویں صدی میں اپنے عروج پر پہنچ رہی تھی، عین اسی زمانہ میں پے در پے ایسے تجربات اور مشاہدے ہوئے کہ خود اس علم کی بنیادیں ہل گئیں اور علم طبیعیات میں ایک ہمہ گیر انقلاب رونما ہوا۔ مادہ اور توانائی، ذرہ اور موج، جوہر اور عنصر، زمان و مکان اور علت و معلول جیسے بنیادی تصورات ہی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader