Urdu book · عقلیات اسلام

سائنس مذہب کے راستہ پر

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

سرے سے بدل گئے اور خود قوانین قدرت کا بھی نیا مفہوم لیا جانے لگا۔ یہی وہ تغیرات ہیں جنہوں نے نیوٹن اور میکسویل کی طبیعیات کے بجائے اس جدید طبیعیات کی تشکیل کی جس کی بنیاد کوانٹم اور اضافیت کے نظریوں پر قائم ہے۔ برٹرینڈ رسل (1970-1872ء) کے الفاظ میں آج ’’ ماہرین طبیعیات ہم کو یقین دلا رہے ہیں کہ مادہ جیسی کوئی شے سرے سے کوئی وجود نہیں رکھتی۔ دوسری طرف ماہرین نفسیات باور کرا رہے ہیں کہ ذہن جیسی کوئی چیز موجود نہیں۔‘‘ وہ مزید لکھتا ہے ’’ آج کا جدید مادہ پرست بننے کی کوشش کرنے والا اپنے آپ کو عجیب کش مکش میں مبتلا پاتا ہے۔ کیوں کہ جہاں ایک طرف ایک خاص حد تک ذہن کے افعال کو وہ کامیابی کے ساتھ جسم کے افعال کے ماتحت ثابت کر سکتا ہے، وہیں دوسری طرف اس واقعہ سے بھی مفر نہیں پاتا کہ جسم بجائے خود محض ذہن کا ایجاد کیا ہوا ایک سہولت پیدا کرنے والا تصور ہے۔‘‘ ’’ سیدھا سادہ عام آدمی مادی چیزوں کے وجود کو یقینی ہی پاتا ہے کیوں کہ وہ حواس کے لیے بالکل بین اور بدیہی ہوتی ہیں۔ اور جو کچھ بھی مشکوک ہو، اتنا یقینی ہے کہ جس چیز کو تم ٹھوکر مارتے ہو، دھکیلتے ہو، دھکا دیتے ہو یا جس سے ٹکراتے ہو، اس کو حقیقی اور واقعی ہی ہونا چاہیے‘‘۔ مگر حقیقت کیا ہے؟۔ ’’ عالم طبیعیات (physicist) ثابت کرتا ہے کہ تم کبھی کسی چیز سے ہرگز نہیں ٹکراتے_ حتیٰ کہ جب تمہارا سر کسی پتھر کی دیوار سے ٹکراتا ہے تو حقیقت نفس الامری کے اعتبار سے تم اس کو مس (touch) تک نہیں کرتے۔ ہوتا صرف یہ ہے کہ کچھ الیکٹران اور پروٹان جو تمہارے جسم کا حصہ ہوتے ہیں، ان میں اور اس چیز کے الیکٹران اور پروٹان کے مابین جس کو تم سمجھتے ہو کہ چھورہے ہو، صرف جذب و دفع کا عمل ہوتا ہے۔ لیکن اس عمل میں فی نفسہ دو جسموں میں کوئی لمس واتصال نہیں پایا جاتا۔ محض اتنا ہوتا ہے کہ تمہارے جسم کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page