حقیقت کی دریافت میں ناکامی
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت کی دریافت میں ناکامی کارل مارکس (1883-1818ء) فطرت سے غیر معمولی صلاحیت لے کر پیدا ہوا۔ جرمنی کی اعلیٰ تعلیم گاہوں میں اس نے ڈاکٹریٹ تک تعلیم حاصل کی۔ وہ آٹھ زبانیں جانتا تھا: یونانی، اطالوی، اسپینی، جرمن، انگریزی، فرانسیسی، ڈچ، فریشین۔ آخر عمر میں اس نے روسی زبان سیکھنا شروع کیا۔ مگر تکمیل سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا۔ وہ ساری عمر پڑھتا رہا۔ تاریخ، اقتصادیات اور فلسفہ سے لے کر ادب اور مذہب تک کوئی ایسا موضوع نہ تھا جس پر اس نے کافی مطالعہ نہ کیا ہو۔ اس نے لائبریریاں کی لائبریریاں اپنے ذہن میں اتار ڈالیں۔ مارکس کا یقین تھا کہ اس کی غیر معمولی ذہانت اور اس کے بے پناہ مطالعہ نے اس کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ زندگی کے راز کو منکشف کر سکے۔ مارکس کے رفیق خاص فریڈرش اینگلز نے جہاں ہیگل پر تنقید کی ہے، وہ لکھتا ہے: ”اگر چہ ہیگل اپنے وقت کا ایک بہت بڑا انسائیکلو پییڈیا ئی ذہن رکھنے والا آدمی تھا۔ تاہم وہ ایک محدود انسان تھا۔ اس کی محدودیت کی پہلی وجہ اس کی اپنی معلومات کی کمی تھی، دوسری وجہ یہ تھی کہ اس کے زمانے کا علم اور اس وقت کے نظریات بھی محدود تھے، اس کے علاوہ ایک تیسرا سبب بھی تھا، وہ یہ کہ ہیگل ایک عینیت پسند (idealist) شخص تھا۔ یعنی وہ مادے کے بجائے تصور کو اصل حقیقت سمجھتا تھا،“ (مارکس انگلس سلیکٹڈ ورکس جلد 2، ماسکو، 1949، صفحہ 122)۔ اینگلز نے لکھا ہے کہ ان اسباب کی بنا پر ہیگل کی تفصیلات سب کی سب غلط ہو کر رہ گئیں اور حقیقت کی دریافت میں وہ ناکام رہا۔ اینگلز کی یہ بات جو اس نے ہیگل کے بارے میں لکھی ہے، یہی خود مارکس پر بھی پوری طرح چسپاں ہوتی ہے۔ کیوں کہ وہ زندگی کے قانون کو اگر چہ تاریخ کا فیصلہ قرار دیتا ہے،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader