سائنس مذہب کے راستہ پر
Urdu book, p. 159
By Maulana Wahiduddin Khan
کرہ گیا ہے۔ یہ علامات کس شے یا حقیقت کی ہیں، اس کا پراسرار جواب یہ ہے کہ طبیعیات کو اس سے مطلب نہیں اور نہ اس کے پاس ان علامات کی تہ میں جانے کا کوئی ذریعہ ہے۔ “ ان علامات کے پس پردہ جو چیز کام کر رہی ہے، اس اس کی حقیقت کے متعلق کوئی قطعی حکم لگانا تو درکنار، طبیعیات کو تو اس کے برعکس انتہائی قطعیت کے ساتھ اصرار ہے کہ اس کے طریقے (methods) علامت (symbolism) کے پس پردہ کسی طرح جاہی نہیں سکتے: Eddington. Science and the Unseen World. اس طرح ایڈنگٹن کے الفاظ میں طبیعیات کی خارجی دنیا (external world) محض سایوں کی دنیا (world of shadows) بن کر رہ گئی ہے۔ پچھلی صدی تک مادہ سب سے بڑی حقیقت تھا۔ پروفیسر ٹائٹ (Tiet) نے "طبیعیاتی سائنس کی بعض ترقیوں پر لکچر دیتے ہوئے 1876 ء میں کہا تھا ”مادہ کے حقیقی ہونے یا اس کے خارجی (objective) وجود کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انسان کے پاس کوئی طاقت ایسی نہیں جو اس کو پیدا یا فنا کر سکے ۔ “ Quoted by James B. Conant. The Modern Science and Modern Man. 1952. p.55-57 مگر اب یہ مادہ ٹوٹ چکا ہے" ہیرو شیما کی بربادی مادہ ہی کے فنا کا نتیجہ تھی، " جدید ایٹی سائنس کی بنیاد تمام تراسی عقیدہ پر قائم ہے کہ مادہ کی آخری اکائی (ایٹم) کو توڑا جا سکتا ہے۔ سائنس کی دنیا میں اس انقلاب کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بقول برٹرینڈ رسل "حقیقت یہ ہے کہ آج مشکل ہی سے تم کوئی ایسا رسالہ یا کتاب کھولو گے جس میں ہمارے عام سائنسی خیالات سے بحث ہو اور اس کو اس طرح کے بیانات سے دو چار نہ ہونا پڑے ۔ “ ”گلیلیو کے عہد کا خاتمہ، سائنس کی روح سے دشمنی کا خاتمہ، “ " میکانکی طبیعیات کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader