موت کے اس پار
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
تباہ کن ہیں۔ اس قسم کی ایک دنیا میں ہم ٹپک پڑے ہیں، اگر غلطی سے نہیں تو کم از کم اس چیز کے نتیجہ میں جس کو اتفاق کہا جا سکتا ہے‘‘ (3)۔ سیاراتی نظام ( جس میں ہماری زمین ہے) انتہائی نادر خلائی واقعہ ہے۔ سیاراتی نظام کا اس قدر نادر ہونا بے حداہم ہے۔ کیوں کہ زندگی کی جس قسم سے ہم زمین پر واقف ہیں، وہ زمین ہی جیسے کسی سیارہ پر وجود میں آسکتی ہے۔ اس کو اپنے ظہور کے لیے موافق طبعی حالات درکار ہیں جن میں سب سے اہم وہ ٹمپر یچر ہے جس میں اشیاء رقیق شکل میں باقی رہ سکیں (4)۔ ان وجوہ سے یہ ناقابل یقین معلوم ہوتا ہے کہ کائنات ابتدائی طور پر ہماری جیسی زندگی کے لیے بنائی گئی ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو یقینی طور پر ہم میکانزم کے حجم اور پیداوار کی مقدار میں زیادہ بہتر تناسب کی توقع کر سکتے تھے۔ کم از کم پہلی نظر میں زندگی غیر اہم ضمنی پیداوار دکھائی دیتی ہے۔ ہم زندہ لوگ شارع عام سے کچھ ہٹے ہوئے ہیں۔ We living things are some how off the main line. (p.5) سائنس نے اب تک جو معلومات دی ہیں، ان کے مطابق ہم نہایت تعجب انگیز طور پر وجود میں آئے ہیں۔ اور ہماری حیرانی میں صرف اضافہ ہوتا ہے جب ہم اپنی ابتدا کے مسئلہ سے آگے بڑھ کر اپنے وجود کی معنویت کو سمجھنا چاہتے ہیں یا یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ قسمت نے مستقبل میں ہماری نسل کے لیے کیا چیز ذخیرہ کر رکھی ہے (صفحہ 10)۔ فرکس اور فلکیات دونوں ایک ہی کہانی بتاتے ہیں۔ وہ یہ کہ کائنات کا صرف ایک ہی انجام ہو سکتا ہے۔ اور وہ ہے حرارتی موت (Heat Death)۔ اس کی کوئی اہمیت نہیں کہ اس آخری انجام تک پہنچنے کا راستہ کیا ہوگا۔ کائنات کی موت کے سوا اس سفر کا دوسرا کوئی انجام نہیں ہو سکتا۔ End of the journey cannot be other than universal death (p.11)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader