موت کے اس پار
Urdu book, p. 166
By Maulana Wahiduddin Khan
پھر کیا ایسا ہے کہ زندگی محض اتفاق سے ایک ایسی کائنات میں بھٹک آئی ہے جو واضح طور پر زندگی کے لیے نہیں بنائی گئی تھی۔ اور جو تمام مظاہر کے مطابق یا تو مکمل طور پر غیر جانب دار ہے یا قطعی طور پر اس کے مخالف۔ ایک ذرے کے محض ایک ٹکڑے پر ہمیں اس وقت تک چمٹے رہنا ہے جب کہ ہم منجمد ہو جائیں، اپنے مختصر اسٹیج پر مختصر تر لمحات کے لیے اکڑ کر چلنا یہ جانتے ہوئے کہ ہمارے تمام حوصلے بالاخر فنا ہو جانے والے ہیں، اور یہ کہ ہماری کامیابیاں ہماری نسل کے خاتمہ کے ساتھ ختم ہو جائیں گی، کائنات کے باقی رہتے ہوئے جہاں ہم موجود نہ ہوں گے (صفحہ 12)۔ The Mysterious Universe (pp.3-1) ان احساسات کا اظہار تاریخ کے ہر دور میں مختلف سوچنے والے لوگ مختلف انداز میں کرتے رہے ہیں۔ کریسی ماریسن (1946-1884ء) زندگی کا سائنسی مطالعہ کرتے ہوئے بے اختیار کہہ اٹھتا ہے: Whence it came or where it goes, science answers not. (p.42) زندگی کب اس زمین پر آئی، زندگی کہاں جارہی ہے، سائنس ہمیں اس کا کوئی جواب نہیں دیتی۔ آئن سٹائن (1955-1879ء) اپنے سائنسی علم کی روشنی میں جب انسان پر غور کرتا ہے تو اس کے پاس اس اقرار کے سوا کوئی اور بات کہنے کے لیے نہیں ہوتی: Man is out of plan. He has come where he was not wanted. آدمی اس دنیا میں بے جگہ معلوم ہوتا ہے، وہ ایسے مقام پر آ گیا ہے جہاں وہ مطلوب نہ تھا۔ انسان جو کچھ پانا چاہتا ہے ۔ وہ موجودہ دنیا کے ڈھانچہ میں ممکن نہیں۔ انسان ابدی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader