Urdu book · عقلیات اسلام

موت کے اس پار

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگی چاہتا ہے مگر اس کو ابدی دنیا نہیں دی گئی۔ وہ اپنے لیے ایک بہتر کل (better tomorrow) پیدا کرنا چاہتا ہے، مگر آنے والا کل اس کے لیے جو چیز لے کر آرہا ہے، وہ حادثہ، بڑھاپا اور موت ہے۔ وہ ایک آزاد، برائیوں سے پاک اور خوشیوں سے بھری دنیا دیکھنا چاہتا ہے، مگر ایسی دنیا اس زمین پر کسی طرح بننے نہیں پاتی۔ اب دو ہی متبادل قیاسَات ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ زندگی، برٹرینڈ رسل (1970-1872ء) کے الفاظ میں، نظام شمسی کے وسیع قبرستان میں اپنی تمام کامیابیوں اور ناکامیوں کے ساتھ بالآخر ہمیشہ کے لیے دفن ہو جانے والی ہے۔ اس کے بعد مدفن (مادی دنیا) شاید کسی شکل میں باقی رہے مگر دفن ہونے والے (انسان) کا اس میں کہیں وجود نہ ہوگا۔ دوسرے یہ کہ موجودہ دنیا کے علاوہ یا اس کے بعد کوئی اور زیادہ مکمل دنیا ہے جہاں انسان اپنے خوابوں کی زندگی کو پا سکتا ہے۔ موت اگلی وسیع تر زندگی کی طرف سفر ہے نہ کہ اس کا خاتمہ۔ گویا ہمارے اور ہمای آرزوؤں کے درمیان وہی نسبت ہے جو بچہ اور انسان کے درمیان پائی جاتی ہے۔ بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں یہ آرزو لیے ہوئے بند رہتا ہے کہ وہ ایک وسیع کائنات کے اندر ایک پورے قد کا انسان بن کر ظاہر ہو۔ پیٹ کے اندر کی محدود دنیا میں یہ محض ایک موہوم خواب معلوم ہوتا ہے۔ مگر جب وہ ایک دن ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے تو اچانک وہ پاتا ہے کہ اس کا خواب ایک انتہائی حقیقی خواب تھا جو مکمل تعبیر کی صورت میں اس کے قریب ہی موجود تھا، اگرچہ پیٹ کے اندر رہتے ہوئے وہ اس کو براہ راست نہیں جان سکتا تھا یا کم ازکم نہیں جان سکا تھا۔ پہلے قیاس کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ یہ مانا جائے کہ وہ چیز جس کو ہم انسان کہتے ہیں، وہ صرف ایک جسم کا نام ہے جسم کی موت کے بعد لازمی طور پر انسان کی موت بھی ہو جاتی ہے۔ مگر اس مفروضہ کے حق میں کوئی قطعی دلیل اب تک قائم نہ ہوسکی۔ تمام دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ مگر یہ دلیل اصل دعوے کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page