Urdu book · عقلیات اسلام

موت کے اس پار

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ کیوں کہ موت کے دن جو انسان‘‘ جسم سے الگ ہوتا ہے، وہ موت سے پہلے بھی ہمارے لیے قابل مشاہدہ نہیں ہوتا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس نے سوچنے اور محسوس کرنے والے انسان کو دیکھا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم انسان کے صرف اس جسم کو دیکھتے ہیں جو نمکیات ومعدنیات سے مل کر بنا ہے۔ ماورائے جسم انسان، جو موت کے دن خاموش ہو جاتا ہے، اس کو ہم مرنے سے پہلے بھی نہیں دیکھتے۔ پھر مرنے کے بعد اگر وہ دکھائی نہ دے تو اس سے اس کا عدم وجود کیسے ثابت ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ جدید سائنس یہ ثابت کر رہی ہے کہ مادہ جب’’ فنا‘‘ ہوتا ہے تو وہ فنا نہیں ہوتا۔ بلکہ زیادہ حقیقی اور ترقی یافتہ شکل اختیار کر لیتا ہے، یعنی انرجی کی شکل۔ فلاسفہ ومفکرین موت کے بعد زندگی کے عقلی ومنطقی ثبوت دیتے رہے ہیں۔ بعض ثبوت ان میں بجائے خود وزنی بھی ہیں۔ مثلاً فردجاف شوان (Frithjof Schuan) کا یہ قول کہ روح جو دراصل ذہن یا شعور ہے اس کے غیر فانی ہونے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اس کا اختتام اپنے سے کم درجہ پر نہیں ہو سکتا، دوسرے لفظوں میں مادہ یا مادہ کا ذہنی انعکاس کی صورت میں۔ کوئی برتر چیز کم تر چیز کا محض فعل نہیں ہو سکتی۔ وہ اس چیز کا صرف ذریعہ نہیں ہو سکتی جس سے وہ بڑھ جاتی ہے: One proof of immortality of the soul—which is essentially ntelligence or consciousness— is that the soul could not have an end beneath itself, in other words matter of the mental reflection of matter. The higher cannot be merely a function of the lower, it cannot be only a means in relation to what it surpasses. Frithjof Schuon, Understanding Islam تاہم، اپنی تمام تر معقولیت کے باوجود، اس قسم کے استدلالات قیاسی استدلالات تھے، اس لیے جدید ذہن کے لیے ان میں زیادہ اپیل نہ تھی۔ جدید ذہن حسی استدلال کو اہمیت دیتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page