Urdu book · عقلیات اسلام

موت کے اس پار

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ وہ اسی دلیل کو دلیل سمجھتا ہے جس کو وہ چھوئے، دیکھے اور تجربہ کرے۔ قیاسی منطق پر قائم ہونے والی دلیل اس کے نزدیک معتبر نہیں۔ مگر بیسویں صدی کے نصف آخر میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، انھوں نے حیرت انگیز طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ قیاسی دلائل کے علاوہ خالص تجرباتی نوعیت کے شواہد بھی قائم زمانہ سے یہاں موجود تھے۔ مگر علمی اصولوں پر ان کا منظم مطالعہ نہیں کیا گیا اور بلا تحقیق یہ فرض کیا جاتا رہا کہ موت کے بعد زندگی کے حق میں کوئی تجرباتی دلیل موجود نہیں۔ قرآن کی سورۃ الزمر میں بتایا گیا ہے: اللہ موت کے وقت جانوں کو کھینچ لیتا ہے۔ اور جن کے مرنے کا وقت نہیں آیا، ان کی نیند میں۔ پھر ان جانوں کو روک لیتا ہے جن پر مرنا ٹھہرادیا ہے اور باقی جانوں کو ایک میعاد تک کے لیے رہا کر دیتا ہے (42 : 39)۔ قدیم ترین زمانہ سے خواب اس قرآنی بیان کی تصدیق کر رہے تھے۔ مگر قدیم زمانہ میں خواب کے فلسفیانہ پہلوؤں پر زیادہ غور نہیں کیا گیا۔ موجودہ زمانہ میں جب ان کا علمی تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ واقعات، حیرت انگیز طور پر، یہ ثابت کر رہے ہیں کہ روح یا شعور جسم سے الگ ایک مستقل حقیقت ہے۔ وہ جسم سے الگ ہو کر بھی پوری طرح باقی رہتی ہے۔ خواب، موت کے بعد زندگی کو تجرباتی سطح پر ثابت کر رہے ہیں۔ عام تجربہ ہے کہ خواب میں ایک شخص دور کے کسی واقعہ کو یا مستقبل میں پیش آنے والے کسی حادثہ کو دیکھ لیتا ہے۔ یہ تجربات جو تقریباً ہر شخص کو پیش آتے ہیں، ثابت کرتے ہیں کہ خواب کی حالت میں آدمی کا شعور موجودہ مادی دنیا سے اوپر اٹھ جاتا ہے اور ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتا ہے جہاں زمان و مکان کی حد بندیاں نہیں پائی جاتیں۔ نیند کے وقت سونے والے آدمی پر جو بے خبری طاری ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی روح، جزوی طور پر، اس کے جسم کو چھوڑ دیتی ہے۔ وہ انسان کی محدود دنیا سے نکل کر خدا کی ابدی دنیا میں پہنچ جاتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page