حقیقت کی دریافت میں ناکامی
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر اس کے باوجود اس کا کہنا ہے کہ اس قانون کو معلوم کر کے اسے استعمال کرنا خود انسان کا اپنا کام ہے۔ اس لیے عملاً اس یہاں بھی قانون ساز خود انسان ہی بن جاتا ہے۔ مارکس جب کہتا ہے کہ زندگی کا قانون خود زندگی کے اندر موجود ہے، اس کو خارج میں کہیں سے برآمد کرنے کی ضرورت نہیں تو دراصل وہ اپنے آپ کو ان فلسفیوں سے الگ کرنا چاہتا ہے جو انسان کو ایک خود فکر مخلوق مان کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انسان اپنا قانون ساز آپ ہے۔ اس کے برعکس مارکس کا نظریہ یہ ہے کہ جس طرح لوہے اور پتھر کے لیے الگ سے کوئی قانون بنانے کی ضرورت نہیں کیوں کہ وہ اپنا قانون اپنے ساتھ رکھتے ہیں، ٹھیک اسی طرح انسان بھی ایک قانون میں جکڑا ہوا ہے جس کو بنانا نہیں بلکہ دریافت کرنا ہے۔ مگر اس چھپے ہوئے قانون کو دریافت کرنے اور اس کو نافذ کرنے کا کام جب وہ خود انسان کے سپرد کرتا ہے تو ظاہری اختلاف کے باوجود وہ اپنے آپ کو انھیں فلسفیوں کے گروہ میں شامل کر دیتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ انسان خود اپنے لیے قانون بنا سکتا ہے۔ اس لیے وہ تنقید جو قسم اول کے فلسفیوں پر چسپاں ہوتی ہے ٹھیک وہی تنقید خود مارکس پر بھی چسپاں ہو رہی ہے۔ اس اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اینگلز نے اپنے اس تجزیے میں ہیگل کی ناکامی کی وجہ یہ بتائی ہے کہ اس کا علم محدود تھا کیوں کہ ایک شخص خواہ کتنا ہی وسیع مطالعہ رکھتا ہو مگر بہر حال وہ محدود ہی رہے گا۔ دوسرے یہ کہ تحصیل علم کے لیے اس کو جو زمانہ ملا وہ بھی ایسا زمانہ تھا جو اسے زیادہ معلومات نہیں دے سکتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ خود چوں کہ ایک خاص طرز فکر رکھتا تھا اس لیے زیادہ وسیع ذہن کے ساتھ نتائج اخذ کرنا اس کے لیے مشکل تھا۔ اگر اینگلز کی اس تشریح کو صحیح مان لیا جائے تو اس سے نہ صرف ہیگل بلکہ تمام فلسفیوں کے نظریات کی تردید ہو جاتی ہے حتیٰ کہ خود مارکس کے فلسفہ کی بھی جس کو اینگلز حقیقت کا صحیح ترین ترجمان مانتا ہے۔ پہلی چیز انسان کا اپنا علم ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قانون دریافت کرنے کے لیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader