موت کے اس پار
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
راقم الحروف کی لڑکی فریدہ خانم (پیدائش 1952ء) نے 24 جنوری 1971ء کو دہلی میں خواب دیکھا کہ اس کے بھائی ظفر الاسلام خاں (پیدائش 1948ء) نے اس کے لیے دس روپے بھیجے ہیں۔ یہ خواب انتہائی غیر معمولی تھا۔ کیوں کہ خواب دیکھنے والی کے بھائی 1966ء سے قاہرہ میں تھے۔ اور باہر سے کوئی بھائی اپنی بہن کو ”دس“ روپے بھیجے، یہ کسی طرح قابل قیاس نہیں ہوسکتا۔ مگر چند ہی روز بعد ظفر الاسلام کا لفافہ قاہرہ سے ملا جس کے اندر دس روپے کا ایک ہندوستانی نوٹ رکھا ہوا تھا۔ ظفر الاسلام کو یہ نوٹ قاہرہ میں اپنے بکس میں پڑا ہوا ملا۔ چونکہ عرب دنیا میں یہ نوٹ ان کے لیے بے کار تھا، انھوں نے ہندوستان میں اپنی بہن کو خط بھیجتے ہوئے اس کو لفافہ میں ڈال دیا—اس کی توجیہ اس کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتی کہ نیند کی حالت میں آدمی کی روح جسمانی محدودیتوں سے آزاد ہو کر ایک بلند تر آفاقی سطح حاصل کر لیتی ہے۔ اس وقت وہ اشیاء کو ایسے مقام سے دیکھنے لگتی ہے جہاں وہ اپنی جسمانی قیام گاہ کی حد بندیوں سے نہیں دیکھ سکتی۔ اس طرح سویا ہوا آدمی خواب میں بعض اوقات کسی مرے ہوئے شخص کو دیکھتا ہے۔ یہ مردہ شخص اپنے زندہ ساتھی کو خواب میں ایسی باتیں بتاتا ہے جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ شخص اب بھی پورے شعور کے ساتھ موجود ہے، اور خواب دیکھنے والے کی فی الواقع اس سے ”ملاقات“ ہوئی ہے۔ گویا سوئے ہوئے آدمی کے شعور کی سطح، ایک خاص حد تک، مرے ہوئے آدمیوں کے شعور کی سطح کے برابر ہو جاتی ہے۔ بالفاظ دیگر، نیند کی حالت میں آدمی، محدود معنوں میں، زندگی بعد موت کا تجربہ کرتا ہے۔ نیند کی حالت، جزوی طور پر موت کی حالت کے مشابہ ہے۔ ڈاکٹر کیسل نے شمالی کیرولینا کے ایک امیر شخص کے واقعہ کی تحقیق کی ہے۔ اس کے چار بیٹے تھے۔ وہ کسی بات پر تین لڑکوں سے ناراض ہو گیا اور ایک وصیت نامہ کے ذریعہ اپنے ان تین لڑکوں کو جائیداد میں حصہ دار بننے کے حق سے محروم کر دیا۔ جب وہ مر گیا تو اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader