موت کے اس پار
Urdu book, p. 171
By Maulana Wahiduddin Khan
کے جلد ہی بعد اس کے چوتھے لڑکے نے، جس کو ازروئے وصیت جائیداد مل رہی تھی، اپنے باپ کو خواب میں دیکھا۔ خواب میں اس کے باپ نے اپنی پسندیدہ برساتیوں میں سے ایک برساتي اوڑھ ركھی تھی۔ وہ سراپا احتجاج دکھائی دیتا تھا اور دوران گفتگو بار بار برساتي کوٹ کی اندرونی جیب کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ نیند کھلی تو لڑکے نے اپنے باپ کی اس کوٹ کو، جو اس نے خواب کے درمیان پہن رکھا تھا، نکالا اور اس کی اندرونی جیب میں ہاتھ ڈالا۔ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ جیب میں باپ کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک وصیت نامہ موجود تھا۔ اس کے تحت پچھلی وصیت کو منسوخ کرتے ہوئے بقیہ تینوں لڑکوں کو بھی حق دیا گیا تھا کہ وہ اپنے حصہ کی جائیداد وصول کر سکتے ہیں۔ باپ نے موت سے تھوڑی دیر پہلے جائیداد کی وراثت کے بارے میں اپنا فیصلہ بدل لیا تھا۔ اس نے دوبارہ اپنا وصیت نامہ تیار کرایا اور اس کو مکمل کر کے اپنے کوٹ کی اندرونی جیب میں ڈال لیا۔ پھر اس سے پہلے کہ اپنے تمام لڑکوں کو اس تبدیلی فیصلے سے آگاہ کرے، انتقال کر گیا— ظاہر ہے کہ اس واقعہ کو مردہ شخص کے سوا کوئی اور نہیں جانتا تھا۔ اس لیے یقین کرنا پڑے گا کہ وہ مرنے کے بعد بھی کسی نہ کسی شکل میں زندہ تھا اور اس نے اپنے لڑکے کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ نیند ہی سے ملتا جلتا وہ واقعہ ہے جب کہ حادثہ وغیرہ کے موقع پر ایک شخص وقتی طور پر مر جاتا ہے‘‘ اور پھر کچھ دیر بعد جی اٹھتا ہے۔ قدیم زمانہ سے اس قسم کے واقعات ہوتے رہے ہیں کہ ایک شخص طبی اعتبار سے مکمل طور پر مر گیا۔ چند منٹ بعد پھر اس کے قلب کی حرکت جاری ہوگئی۔ وہ دوبارہ زندہ‘‘ ہوگیا۔ اس قسم کے واقعات بظاہر اس بات کا ثبوت ہیں کہ’’ آدمی‘‘ نے کچھ لمحات کے لیے اپنا جسم چھوڑ دیا تھا اور پھر دوبارہ اپنے جسم میں واپس آگیا۔ قدیم زمانہ میں ان واقعات کا ذکر صرف عجوبہ کے طور پر کیا جاتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں ان کو علمی اندازہ سے جانچا گیا تو معلوم ہوا کہ ان سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ انسان،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader