Urdu book · عقلیات اسلام

موت کے اس پار

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

جسم کے ماورا اپنی ایک مستقل ہستی رکھتا ہے جو اس وقت بھی باقی رہتی ہے جب کہ وہ اپنے دنیوی جسم سے الگ ہو گیا ہو ۔ بعض ایسے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں کہ ایک بیمار شخص آپریشن ٹیبل پر تھا ، آپریشن کے دوران اس کے دل کی حرکت بند ہو گئی ۔ طبی طور پر وہ مر گیا ۔ کچھ دیر بعد اس کو ہوش آیا ۔ اس سے پوچھا گیا کہ "موت" کے دوران تم نے کیسا محسوس کیا ۔ اس نے بتایا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں اپنے جسم سے الگ ہو کر فضا میں تیر رہا ہوں ۔ میں فضا سے اپنے جسم کو دیکھ رہا تھا جو آپریشن ٹیبل پر پڑا ہوا تھا اور اس کے گرد ڈاکٹر جھکے ہوئے تھے ۔ اس نے اس دوران میں ہونے والی ڈاکٹروں کی بعض باتوں کو اس طرح بتایا جیسے کہ وہ "موت" کے وقت بھی ان کو دیکھ اور سن رہا تھا ۔ روح اگر محض ایک جسم کا عمل (function) ہو تو وہ جسم سے الگ ہو کر کیسے اس طرح باقی رہ سکتی ہے ۔ جسم سے الگ ہو کر بھی شعور ذات کا ختم نہ ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان ایک مستقل ہستی ہے جو جسم سے علیحدگی کے بعد بھی پوری طرح باقی رہتا ہے ۔ ڈاکٹر گریفیلڈ بتاتے ہیں کہ میں ایک بوڑھی عورت کا معائنہ کر رہا تھا ۔ یہ عورت ہڈی کے کینسر کی مریض تھی ۔ اس کی حالت بہت خراب ہو رہی تھی ۔ ہم نے مریضہ کے درد کو دور کرنے کی جتنی تدبیریں کیں سب بے سود ثابت ہوئیں ۔ اچانک وہ بے ہوش سی ہو گئی ۔ اس کے بعد جب ہوش میں آئی تو ایسا محسوس ہوا جیسے اس کو بہت افاقہ ہو گیا ہو ۔ میں نے عورت سے اس کی اچانک تبدیلی کا سبب پوچھا ۔ اس نے بتایا کہ ابھی اس کی مردہ ماں اس سے ملنے آئی تھی اور اس کو بتا گئی ہے کہ بہت جلد دونوں اکٹھا ہو جائیں گی ۔ اپنی ماں سے اس گفتگو کے بعد وہ بہت پرسکون ہو گئی اور تھوڑی دیر کے بعد مر گئی ۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ مریضہ کی ماں ، اپنی موت کے بعد بھی پورے شعور کے ساتھ موجود تھی ۔ ورنہ کس طرح وہ اپنی بیٹی کے پاس آتی ۔ نیز ماں کی خبر کے مطابق ٹھیک وقت پر اس کا مر جانا ثابت کرتا ہے کہ مریض کا تجربہ حقیقی تھا نہ کہ محض خیالی ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page