Urdu book · عقلیات اسلام

موت کے اس پار

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورۃ الواقعہ میں ارشاد ہوا ہے : جب مرنے والے کی جان حلق تک آجاتی ہے اور تم دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مر رہا ہے ، اس وقت تمہاری بہ نسبت ہم مرنے والے کے زیادہ نزدیک ہوتے ہیں۔ مگر تم نہیں دیکھتے (85-83:56) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آدمی جب مرنے کے قریب ہوتا ہے تو جان کی جسم سے علیحدگی سے پہلے موت کے اس پار کی بعض کھڑکیاں اس پر کھول دی جاتی ہیں۔ دوسری دنیا کا پردہ ایک خاص حد تک ، اس سے ہٹا لیا جاتا ہے۔ موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے وہ عالم آخرت کی بعض چیزوں کو دیکھنے لگتا ہے۔ ان میں سب سے عام اور کثیر الوقوع مشاہدہ اپنے مردہ عزیزوں کو دیکھنا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آتا ہے جب کہ آدمی نزع کے عالم میں پہنچ گیا ہو۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ نزع کے وقت آدمی اپنے مرے ہوئے رشتہ داروں کو پکارنے لگتا ہے۔ اپنے مرے ہوئے اعزہ اور دوستوں کو وہ اس طرح آواز دیتا ہے جیسے وہ اس کے قریب کھڑے ہوں۔ راقم الحروف کی بڑی بہن طاہرہ خانم کا انتقال تقریباً 60 سال کی عمر میں 21 اگست 1976 ء کو ہوا۔ اس وقت وہ اعظم گڑھ کے اسپتال میں تھیں۔ انتقال کے وقت میں خود بہن کے پاس موجود نہ تھا۔ تاہم میری والدہ زیب النساء خاتون نے مجھے بتایا کہ آخر وقت میں مرحومہ کی زبان سے یہ کلمات سنے گئے۔ ’’ ابا اتنی دیر سے کھڑے ہیں کوئی ان کو بیٹھنے کے لیے نہیں کہتا۔‘‘ ہمارے والد کا انتقال 1929ء میں ہو چکا ہے۔ اس لیے لوگوں کو یہ سن کر تعجب ہوا۔ مرحومہ کی لڑکی نے کہا: ’’ ابا یہاں کہاں ہیں۔‘‘ مرحومہ نے دوبارہ کہا: ’’وہ کیا سامنے کھڑے ہیں‘‘ اور پھر چند لمحہ بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ ڈاکٹر الزبتھ کیوبلر روز نے بطور مہم یہ کام شروع کیا کہ وہ نزع میں گرفتار لوگوں سے ملیں اور آخر وقت میں ان کی آوازوں کا ٹیپ لیں۔ انھوں نے ایک ہزار سے زیادہ ایسے لوگوں کا قریب سے مشاہدہ اور مطالعہ کیا جو عالم نزع میں گرفتار تھے۔ اور گویا موجودہ دنیا اور اگلی دنیا کے درمیان پہنچ چکے تھے۔ ان لوگوں نے انھیں بتایا کہ نزع کی حالت میں ان کے کئی ایسے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page