موت کے اس پار
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
دوست اور رشتہ داران کے پاس آئے جو پہلے مر چکے تھے۔“ تا کہ سفر آخرت کے وقت ان کی امداد کر سکیں‘۔ یہ لوگ اگر اس دنیا میں اپنے بدن کے کسی عضو سے محروم تھے تو نزع کی حالت میں انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے ان کا بدن ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ مثلاً جو شخص لنگڑا تھا اس کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کے دونوں پاؤں صحیح و سالم موجود ہیں۔ گویا جسم میں کسی حادثہ سے کمی واقع ہو جائے تو اس کی وجہ سے اصل انسانی ہستی میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ اس قسم کے خواب اور واقعات اگرچہ ہمیشہ سے پیش آ رہے تھے۔ مگر موجودہ زمانہ میں پہلی بار ان کا منظم مطالعہ کیا گیا ہے، ضروری اعداد و شمار کے ساتھ ہزاروں واقعات جمع کیے گئے ہیں خاص طور پر امریکہ میں جدید ترین ٹیکنیک اور سائنسی اہتمام کے ساتھ ان کا باقاعدہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان تحقیقی نتائج پر متعدد کتابیں چھپی ہیں۔ حال میں امریکہ سے ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے زندگی کے بعد زندگی : Life After Life, Dr. Raymond A Moody Jr., U.S.A., 1976. یہ کتاب آج کی انتہائی کثیر الاشاعت کتابوں میں سے ایک ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے اخبارات ورسائل میں، جدید دور میں پہلی بار، زندگی بعد موت سے متعلق سرخیاں نظر آنے لگی ہیں۔ اس سلسلے میں تحقیقی کتابوں کے خلاصے شائع کیے جا رہے ہیں۔ مثلاً نیوز ویک 12 جولائی 1976 ء، السٹریٹیڈ ویکلی آف انڈیا مارچ 1977 ء، ریڈرز ڈائجسٹ اگست 1977ء وغیرہ۔ ایک امریکی میگزین (ٹائم 7 جنوری 1974ء) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ’’موت‘‘کا موضوع اور موت کے بعد زندگی کا مسئلہ اچانک طور پر امریکہ کا بہت زیادہ مقبول عام موضوع بن گیا ہے۔ اجتماعات میں اب موت کا موضوع جنس اور سیاست جیسے سدا بہار موضوعات سے تجاوز کرنے لگا ہے۔ کتابوں کی ایک نئی قسم وجود میں آگئی ہے جس کو عالم الموت (thanatology) کی کتابیں کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader