موت کے اس پار
Urdu book, p. 175
By Maulana Wahiduddin Khan
آرتھر کوئسلر (Arthur Koestler) پہلے مارکسسٹ تھے، مگر اب وہ اس حد تک بدل چکے ہیں کہ انھوں نے ایک طویل محققانہ مقالہ شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے ”کیا موت کے بعد بھی زندگی ہے“ (Is there life after death?)۔ موجودہ صدی کے ربع ثانی میں آئن سٹائن ، ڈی بروگلی، شرو ڈنگر اور ہیزن برگ نے کامیاب طور پر مادہ کا غیر مادہ ہونا ثابت کیا ہے۔ جو چیز دیکھنے میں ٹھوس جسم نظر آتی ہے، وہ انرجی (قوت) کا صرف ایک شدید اجتماع ہے۔ اس سے ثابت ہوا ہے کہ مادہ کے اجزاء الیکٹران ، پروٹان ، نیوٹران وغیرہ — معروف معنوں میں مادی ذرات نہیں ہیں بلکہ وہ لہروں کی مانند ہیں۔ ڈی بروگلی کا کہنا ہے کہ ایک الیکٹران بیک وقت جسمیہ بھی ہے اور لہر بھی۔ ثنویت (dualism) جدید طبعیات کا لازمہ ہے اور (principle of complementarity) یعنی تکمیلی اصول اس کا جدید سائنسی نام ہے (سڈے، کلکتہ، 13 اکتوبر 1976ء)۔ ان دریافتوں کا حوالہ دیتے ہوئے آرتھر کوئسلر (Arthur Koestler) نے لکھا ہے کہ — ذرہ / لہر (particle/wave) کے اصول کو مان لینے کے بعد جسم / ذہن (body/mind) کے اصول کو ماننا آسان ہو جاتا ہے۔ ایک جگہ تکمیلی اصول کو مان لینے کے بعد دوسری جگہ اس کو نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔ ہم پوچھ سکتے ہیں کہ جب مادہ اپنے آپ کو لہروں میں تبدیل کر سکتا ہے اور اس طرح ایک خاص غیر جسمانی انرجی (disembodied energy) بن جاتا ہے تو کیا اب بھی یہ خالی از معنی ہوگا کہ بے جسم ذہن (discarnat mental energy) کی موجودگی کی بات کی جائے۔ کیا ایسی گفتگو اب بھی اسی طرح بے حقیقت ہے جس طرح وہ پچاس سال پہلے معلوم ہوتی تھی جب کہ طبعیات نے ابھی مادہ کی حیثیت کو ختم نہیں کیا تھا اور ابھی ہم کو بتایا نہیں تھا کہ ایٹم ”چیز“ نہیں ہیں، اور کیا اب بھی یہ معقول بات ہوگی کہ کوئی شخص ذہنی مادہ (mind -stuff) کی اصطلاح کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader