موت کے اس پار
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
غیر سائنسی کہہ کر مذاق اڑائے جس کو ایڈنگٹن نے وضع کیا تھا۔ ڈاکٹر آئی جے گڈ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ مادہ اثیری ہے اور ذہن ٹھوس چٹان ہے: Matter is athereal and mind is the solid rock. موت کے بعد زندگی کا ثبوت ہی یہ بھی ثابت کر دیتا ہے کہ موجودہ نظر آنے والی دنیا کے علاوہ ایک اور دنیا بھی ہے۔ اگر ایسی کوئی دنیا نہیں ہے تو یہ غیر مرئی انسانی ہستیاں کہاں واقع ہیں۔ لوگ اپنے جسم کو چھوڑ کر کہاں چلے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے اس طرح بندھی ہوئی ہیں کہ ایک کا ثابت ہونا آپ دوسرے کو ثابت کر دیتا ہے۔ قرآن میں کہا گیا ہے: اور ہر چیز کو ہم نے بنایا جوڑا جوڑا۔ تاکہ تم دھیان کرو (51:49)۔ اس آیت میں اس بات کا اشارہ ہے کہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ ہر چیز جوڑے کی صورت میں ہے (نر مادہ، مثبت منفی، رات دن)۔ ایک جزء اپنے دوسرے جزء سے مل کر اپنے کو مکمل کرتا ہے۔ یہ اس لیے تاکہ لوگ سمجھیں کہ جس طرح ہر چیز کا جوڑا ہے اسی طرح اس دنیا کے لیے بھی جوڑا ہونا ضرور ہے۔ یہ جوڑا آخرت ہے۔ آخرت کے بغیر دنیا موجودہ تخلیقی نظام کے مطابق کبھی مکمل نہیں ہوسکتی۔ آج دنیا کا یہ جوڑ انسانی علم میں آچکا ہے۔ اس جوڑے کا سائنسی نام اینٹی ورلڈ ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ بیسویں صدی کے نصف آخر میں ایک طرف انسان کا مطالعہ موت کے بعد انسانی ہستی کے بقا کا تجربہ کر رہا تھا، دوسری طرف عین اسی وقت طبیعی سائنس یہ ثابت کر رہی تھی کہ ہمارے موجودہ دنیا کے متوازی ایک اور دنیا ہے جو مکمل شکل میں اپنا وجود رکھتی ہے۔ ہماری موجودہ دنیا اور ورلڈ ہے اور وہ اینٹی ورلڈ۔ 1928ء تک طبیعیات داں یہ سمجھتے تھے کہ تمام ایٹم صرف دو قسم کے ذرات کا مجموعہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader