موت کے اس پار
Urdu book, p. 177
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتے ہیں۔ مثبت برقی چارج رکھنے والے پروٹان، اور منفی برقی چارج رکھنے والے الیکٹران، مگر اسی سال پال ڈیر اک (Paul A.M. Dirac) نے ایک نئے قسم کے ذرہ کی موجودگی کا امکان ظاہر کیا۔ اس نے کہا’’ اس کا مقدار مادہ الیکٹران جیسا ہے۔ مگر وہ اس کے مخالف برقی چارج رکھتا ہے۔ ہم اس ذرہ کو اینٹی الیکٹران کہہ سکتے ہیں۔‘‘ 1932ء میں اینڈرسن (K. Anderson) نے اس اینٹی الیکٹران کو کاسمک شعاعوں میں دریافت کر لیا۔ اب معلوم ہوا کہ ایٹم کے ہر پارٹیکل کا ایک اینٹی پارٹیکل ہے۔ پروٹان ایک اینٹی پروٹان رکھتا ہے، نیوٹران ایک اینٹی نیوٹران رکھتا ہے۔ گویا کائنات کے تمام ذرات، جوڑوں (pair particles) کی صورت میں ہیں۔ اب سائنسی فکر آگے بڑھا۔ یہاں تک کہ معلوم ہوا کہ عالم مادی میں جوڑوں کی یہ تقسیم الیکٹران کے ناقابل مشاہدہ ذرات سے شروع ہو کر خود مجموعہ عالم تک پہنچ جاتی ہے— الیکٹران کا اینٹی الیکٹران ہے، ایٹم کا اینٹی ایٹم، میٹر کا اینٹی میٹر، حتیٰ کہ ورلڈ کا اینٹی ورلڈ۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہماری دنیا میں تمام اینٹی پارٹیکل غیر قائم (unstable) حالت میں ہیں۔ مگر اینٹی ورلڈ میں وہ سب قائم (stable) حالت میں ہوں گے۔ کیوں کہ تمام ایٹموں کے نیوکلیس منفی برقی چارج رکھتے ہوں گے اور تمام الیکٹران مثبت برقی چارج۔ اس قسم کے ایک اینٹی ورلڈ کا امکان پہلی بار 1933ء میں ڈیر اک نے اپنے لکچر میں بتایا تھا۔ اب سائنس داں عام طور پر اس کو تسلیم کرتے جا رہے ہیں۔ سوویت یونین کے ڈاکٹر گسٹاف نان (Gustav Nasn) نے ریاضیات کے ذریعہ اس اینٹی ورلڈ کی ایسی ٹھوس احاطہ بندی کر دی ہے کہ اب اس کے مخالفین تک اس کو انتہائی زبردست قسم کا متوازن تصور ماننے لگے ہیں۔ اپنی دنیا میں دور کی چیزوں کو ہم فوٹان کی مدد سے پہچانتے ہیں جو کہ برقی مقناطیسی شعاعوں کے ذرات ہیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اینٹی ورلڈ بھی اسی قسم کے فوٹان کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader