Urdu book · عقلیات اسلام

موت کے اس پار

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

اخراج کرتی ہوگی جو کہ بیک وقت پارٹیکل بھی ہے اور اینٹی پارٹیکل بھی۔ اینٹی ورلڈ، وہ دور ہو یا نزدیک، اس کی روشنی فوٹان کی شکل میں ہو سکتا ہے کہ مسلسل ہم تک پہنچ رہی ہو۔ مگر ہم اس کو اپنے پازیٹو ورلڈ کی چیزوں کی روشنی سے الگ کر کے نہیں دیکھ سکتے۔ ورلڈ اور اینٹی ورلڈ کے درمیان کیا رشتہ ہے۔ کیا دونوں کے درمیان کوئی مواصلاتی سلسلہ ہے جس کے ذریعہ ہماری دنیا اینٹی ورلڈ سے تعلق قائم کرتی ہے۔ سائنس دانوں کا جواب اثبات ہے۔ ڈاکٹر نان کا خیال ہے کہ بلیک ہول اور وائٹ ہول کو ورلڈ اور اینٹی ورلڈ کے درمیان ایک مقامی واسطہ (local channels) سمجھنا چاہیے۔ بہت سے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اینٹی ورلڈ ہم سے الگ اور ہماری دنیا کے متوازی اپنا وجود رکھتا ہے تخلیق کے بارے میں عظیم دھماکہ (big bang) کا نظریہ فرض کرتا ہے کہ 10 سے 20 بلین سال پہلے سارا مادہ منجمد حالت میں ابتدائی ایٹم کی صورت میں تھا اور فوٹان انرجی پر مشتمل تھا۔ قیاس ہے کہ فوٹان، ایک عظیم دھماکہ کے ساتھ میٹر اور اینٹی میٹر کی صورت میں مجتمع ہو گئے اور ورلڈ اور اینٹی ورلڈ کو بنانے کے لیے الگ الگ ہو گئے۔ اسی بنیاد پر ہینز الفوین (Hannes Alfven) نے 1963ء میں تفریقی میکانزم (separation mechanism) کا امکان ظاہر کیا جس کے ذریعہ ایک ہی کہکشاں میں میٹر اور اینٹی میٹر دونوں موجود رہتے ہیں۔ سائنس یہاں پہنچ کر خاموش ہو جاتی ہے اور اسے خاموش ہو جانا چاہیے۔ کیوں کہ اس کا دائرۂ تحقیق صرف وہ واقعات ہیں جو قانون طبعی کے تحت ظہور میں آتے ہیں۔ ماورائے طبیعیات چیزوں کے بارے میں وہ ہمیں کوئی قطعی بات نہیں بتا سکتی۔ تاہم اس نے یہ تسلیم کر کے ہمارے لیے مزید تحقیق کا دروازہ کھول دیا ہے کہ استنباط (inference) بھی ایک جائز ذریعہ علم ہے بشرطیکہ وہ ثابت شدہ واقعات کی بنیاد پر کیا گیا ہو۔ اس اصول

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page