Urdu book · عقلیات اسلام

حقیقت کی دریافت میں ناکامی

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

جس وسیع علم کی ضرورت ہے اس کے مقابلہ میں انسان کا علم ہمیشہ محدود رہے گا۔ زندگی کے قانون کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان تمام انسانوں کے لیے ہے جو روئے زمین پر بستے ہیں۔ کیا کوئی انسان یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس نے تمام انسانوں کے جذبات کو پڑھا ہے اور ان کی ضروریات کو معلوم کر لیا ہے۔ آدمی بسا اوقات خود اپنے بارے میں کسی قطعی اور صحیح فیصلہ تک پہنچنے سے قاصر رہتا ہے۔ پھر وہ ان کروڑوں انسانوں کے بارے میں کیا جان سکتا ہے جن کی اس نے شکل تک نہیں دیکھی ، جن کے متعلق وہ کچھ بھی نہیں جانتا۔ زندگی کا مسئلہ ایک نہایت پیچیدہ مسئلہ ہے۔ جس طرح کسی مشین کا ایک پرزہ درست کرنے کے لیے اس کے تمام پرزوں سے واقفیت ضروری ہوتی ہے۔ اسی طرح انسانی زندگی کے کسی ایک جزء کے لیے بھی وہی شخص قانون بنا سکتا ہے جو پوری زندگی کے مسائل پر عبور حاصل کر چکا ہو۔ کیا انسان اپنی موجودہ عمر اور موجودہ ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے۔ ایک شخص جو بیک وقت دو خیالات پر غور نہیں کر سکتا۔ اس کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ کروڑوں انسانوں کے لیے قانون بنا سکتا ہے ، ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے حق میں کوئی دلیل نہیں۔ ذہنی صلاحیتیں تو درکنار کیا چند سال کی محدود عمر کسی کے لیے کافی ہو سکتی ہے کہ وہ زندگی کے مسائل کا جامعیت اور تفصیل کے ساتھ مطالعہ کر سکے۔ مارکس کی زندگی کے آخری 25 سال اس طرح گزرے ہیں کہ لندن میں برٹش میوزیم کے کتب خانہ میں صبح کو وہ سب سے پہلے داخل ہوتا تھا اور شام کو سب سے آخر میں نکلتا تھا۔ مگر اس غیر معمولی جانفشانی کے باوجود اپنی عمر میں وہ اپنی کتاب ”سرمایہ‘‘ کی صرف ایک جلد شائع کر سکا اور بقیہ جلدیں مکمل کرنے سے پہلے ایک روز اپنے مطالعہ کے کمرہ میں آرام کرسی پر بیٹھا بیٹھا انتقال کر گیا۔ اس کی یہ مشہور کتاب جو’’محنت کش طبقہ کی بائبل‘‘ کہی جاتی ہے اس کی دوسری اور تیسری جلدیں جن کا مسودہ وہ نا تمام حالت میں چھوڑ گیا تھا اس کو اینگلز اور کاٹسکی نے بعد کو مکمل کیا اور اس میں بہت دنوں تک کاٹ چھانٹ ہوتی رہی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page