Urdu book · عقلیات اسلام

ایک واقعہ دو انجام

Urdu book, p. 180

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک واقعہ دو انجام تیرہویں صدی عیسوی میں جب کہ مسلمان سیاسی طاقت، تمدنی ترقی اور علوم وفنون میں دنیا کی تمام قوموں سے بڑھے ہوئے تھے۔ یورپ نے طے کیا کہ اس کو عربی پڑھنی ہے اور مسلمانوں کے علوم سیکھنے ہیں۔ یہی فیصلہ تھا، جو سولہویں صدی کے اس عظیم واقعہ کا سبب بنا جس کو دنیا یورپ کی نشاتہ ثانیہ (renaissance) کے نام سے جانتی ہے۔ مسلمانوں کے علوم سیکھ کر اور ان میں اضافہ کر کے بالآخر یورپ اتنا طاقت ور ہو گیا کہ نہ صرف مسلمانوں پر بلکہ ساری دنیا پر چھا گیا۔ اس واقعہ کے چار سو برس بعد یہی صورت حال برعکس شکل میں مسلمانوں کے سامنے تھی ۔ انھوں نے دیکھا کہ یورپ سیاست و تمدن اور علوم وفنون میں سب سے آگے بڑھ گیا ہے۔ ان کے اندر یہ رجحان ابھرا کہ وہ یورپی زبانیں سیکھیں اور یورپ کے علوم کو حاصل کریں۔ مگر یہاں نتیجہ برعکس نکلا۔ یورپی طرز کی تعلیم نے ہم کو یورپ کا ذہنی غلام بنا دیا۔ ہم اپنے علیحدہ قومی وجود کو بھول کر یورپ کے رنگ میں رنگ گئے۔ ایک ہی نوعیت کے دو واقعات میں انجام کا یہ فرق کیوں ہے۔ اس کا جواب ذہنیت کے اس فرق میں ہے جو دونوں جگہ پایا جاتا ہے۔ یورپ نے ہمارے علوم کو اس جذبہ کے تحت سیکھا تھا کہ وہ ہمارے ہتھیاروں سے ہم کو شکست دے سکے۔ اس کے برعکس، ہم یورپی علوم کی طرف اس لیے بڑھے کہ ہم اس کے نقال بن کر اس کی نظروں میں با عزت ہو جائیں اور جہاں ذہنیت میں اس قسم کا فرق پایا جائے وہاں انجام میں فرق پایا جانا لازمی ہے۔ مسلمانوں کو ایک ہزار سال تک دنیا میں وہی حیثیت حاصل رہی ہے جو آج روس یا امریکا کو حاصل ہے۔ اس وقت جب کہ یورپ پر ابھی قرون مظلمہ (Dark Ages) کا اندھیرا چھایا ہوا تھا، عرب مسلمان ایک شان دار تہذیب کو وجود میں لا چکے تھے۔ اور اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page