ایک واقعہ دو انجام
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
تحقیقات اور یونانی اور دوسرے علوم کے ترجموں کی مدد سے سائنس اور فلسفہ میں دنیا کی امامت کر رہے تھے، اس وقت مسلمان ساری دنیا میں علم اور تہذیب کے تنہا مالک تھے۔ عربی زبان دنیا کی واحد علمی زبان تھی اور ساری دنیا کے لوگ علوم وفنون کے اکتساب کے لیے مسلم مرکزوں (دمشق، بغداد، قرطبہ، غرناطہ) کا اسی طرح سفر کرتے تھے جیسے آج لوگ اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ اور امریکا کے شہروں میں جاتے ہیں۔ بارہویں اور تیرہویں صدی میں جب کہ مسلمانوں کی طاقت عروج پر تھی اور وہ عرب سے بڑھتے بڑھتے فرانس تک پہنچ گئے تھے، اس وقت یورپ نے مسلمانوں کے خلاف اپنی شدید ترین جنگ چھیڑ دی اور گیارھویں صدی کے آخر (1096ء) سے لے کر تیرہویں صدی کے آخر تک دوسو برس پورا یورپ مسلمانوں کے خلاف خوفناک جنگ لڑتا رہا۔ یہ جنگ جو صلیبی لڑائیوں (Crusades) کے نام سے مشہور ہے، بالآخر یورپ کی مکمل ناکامی پر ختم ہوئی۔ مگر یورپ نے ہمت نہیں ہاری۔ اب اس کے اندر ایک نیا رجحان ابھرا۔ صلیبی جنگوں کے درمیان اہل یورپ کو تجربہ ہو گیا تھا کہ مسلمان علم اور سائنس میں ان سے بہت آگے ہیں۔ اس وقت کا تصور کیجیے جب مصری فوج نے منجیقوں کے ذریعہ فرانسیسی لشکر پر آگ کے بان پھینکنا شروع کیے۔ یہ بان جب منجیقوں سے نکل کر دشمن کی طرف بڑھتے تو ایسا نظر آتا جیسے بڑے بڑے آتشیں اژدھا ہے ہوا میں اُڑ رہے ہوں۔ فرانسیسی، جن کے پاس اس وقت پرانے دستی ہتھیاروں کے سوا اور کچھ نہ تھا، ان کے لیے یہ بان ایسے ہی بھیانک تھے جیسے آج کسی پس ماندہ اور بے سروسامان ملک پر جدید ترین راکٹوں کے ذریعہ حملہ کر دیا جائے۔ اسی طرح مسلمان تہذیب و تمدن کے تمام پہلوؤں میں نمایاں طور پر اہل یورپ سے بڑھے ہوئے تھے۔ چنانچہ صلیبی جنگوں کے ناکام تجربہ کے بعد یورپ نے فیصلہ کیا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader