Urdu book · عقلیات اسلام

ایک واقعہ دو انجام

Urdu book, p. 182

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں کو شکست دینے کے لیے اب اس کو دوسرے قسم کی جنگ چھیڑنی ہے، اور وہ یہ کہ مسلمان کے ہنر اور ان کے علوم کو سیکھ کر انہیں کے ہتھیاروں سے انہیں شکست دی جائے۔ اب ایک طرف یورپ کے مذہبی طبقہ نے روحانی صلیبی جنگ (Spiritual) (Crusades کا نعرہ دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کے مذہبی علوم کو سیکھا جائے، اور مسلمانوں کی تاریخ اور ان کے عقائد کو اس طرح بگاڑ کر پیش کیا جائے کہ مسلمان اپنے دین سے متنفر ہو جائیں اور عیسائیت قبول کرلیں تا کہ وہ قوم جس کو فوجی میدان میں شکست نہیں دی جا سکی ہے، اس کو عددی حیثیت سے کمزور کر کے مغلوب کیا جا سکے۔ عیسائی مشنری تحریک پہلی بار صلیبی جنگوں کے زمانے میں شروع ہوئی۔ پہلا شخص جس نے 1154 ء میں ماؤنٹ کارمل پر مشنری نظام قائم کیا وہ ایک صلیبی ہی تھا۔ بعد کو فرانس بیکن (1219 ء) نے اس کی پیروی کی۔ یہ مشنری تحریک آج ساری دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور تبلیغی ادارہ کی حیثیت سے کام کر رہی ہے۔ اس کی کوششیں اس حد تک کامیاب ہوئی ہیں کہ ساری دنیا کا لٹریچر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط قسم کی باتوں سے بھر گیا ہے۔ دوسری طرف یہ ہوا کہ اہل یورپ کے درمیان مسلمانوں کا فلسفہ و سائنس اور ان کے علوم وفنون سیکھنے کی تحریک زور شور سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ یورپ کی درسگاہوں میں عربی زبان پڑھانے کا انتظام کیا گیا۔ مسلمانوں کی تصنیفات کے ترجمے یورپ کی زبانوں میں کیے جانے لگے۔ یورپ کے طلبہ مسلم شہروں میں تحصیل علم کے لیے جانا شروع ہوئے۔ جنگ کی یہ نئی تکنیک اختیار کرنے کی وجہ سے یورپ کو اندرونی طور پر مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت یورپ کے قدامت پسند حلقوں میں عربی زبان کی توسیع کی حوصلہ افزائی کے سلسلہ میں ناراضگی پائی جاتی تھی جس کی وجہ خاص طور پر یہ اندیشہ تھا کہ عربی سیکھنے سے عیسائیوں کے درمیان اسلامی خیالات پھیلنا شروع ہو جائیں گے۔ مثال کے طور پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page