Urdu book · عقلیات اسلام

حقیقت کی دریافت میں ناکامی

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

پیر مارکس نے اپنی بہترین کوشش صرف کرنے کے بعد جو نا تمام مطالعہ چھوڑا ہے اس کا بھی یہ حال ہے کہ اس میں زیادہ تر صرف سرمایہ دارانہ اقتصادیات کی تشریح کی گئی ہے۔ مگر موجودہ نظام کو توڑ کر سوشلسٹ اقتصادیات کی تنظیم کس طرح ہوگی، اس پر توجہ دینے کا اسے بہت کم موقع ملا۔ مارکس کی تحریروں میں کہیں بھی اس نظام کی تفصیل نہیں ملتی جو سرمایہ داری نظام کے بعد آئے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو جو صلا حیتیں دی گئی ہیں اور اس کو دنیا میں کام کرنے کے لیے جتنا وقت ملتا ہے اس کے تحت کوئی بھی انسان خواہ وہ کتنا ہی قابل ہو یہ کام نہیں کر سکتا۔ انسان کے لیے قانون بنانا انسان کے بس سے باہر ہے۔ دوسرے پہلو سے دیکھیے ۔ آج جو قانون بنتا ہے وہ کل نافذ ہوتا ہے۔ مگر انسان کو کل کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ آدمی کی معلومات صرف ماضی اور حال کے واقعات تک محدود ہیں۔ جب کہ اسے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔ مثال کے طور پر مارکسزم کا سارا انحصار ماضی کے تجزیے پر ہے۔ وہ صرف یہ دیکھتی ہے اور یہی دیکھ سکتی ہے کہ جو کچھ آج ہے وہ کیوں کرو جود میں آیا اور اس کی نشوونما کس طرح ہوئی اور پھر اس تجزیے کی بنیاد پر اپنا فیصلہ صادر کر دیتی ہے۔ مارکس اور اس کے متبعین کو اس طریقے کے مکمل ہونے پر اس قدر اصرار ہے گویا انھوں نے آخری سچائی کو پا لیا ہے۔ حالانکہ مارکس کا نظریہ یہ ہے کہ جس طرح تمام موجودات عمل ارتقاء کے ذریعے وجود میں آتی ہیں اسی طرح انسانی سماج میں بھی ارتقائی عمل ہو رہا ہے اور پھر ڈارون کے نظریہ کے برعکس اس کا یہ بھی خیال ہے کہ ارتقاء کا یہ سفر لازمی طور پر تدریج اور تسلسل کے ساتھ نہیں ہو رہا ہے بلکہ اس میں اچانک خلاف توقع تبدیلی بھی ہوتی رہتی ہے۔ یہ نظریہ خود اس بات کی تردید کر رہا ہے کہ کوئی شخص مستقبل کے بارے میں جان سکتا ہے۔ جب انسانی سماج کسی لگے بندھے ارتقائی نظریے کے مطابق سفر نہیں کر رہا ہے بلکہ بعض اوقات بالکل اچانک اس میں غیر متوقع تبدیلیاں بھی ہوتی ہیں تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page