عقلیات اسلام
Urdu book, p. 190
By Maulana Wahiduddin Khan
نام سے صرف زاویہ ناپنے کا سادہ آلہ (quadrant) اصطرلاب، دھوپ گھڑی اور معمولی گلوب تھے۔ اس قسم کی چند چیزوں کے ذریعہ انھوں نے اپنی جدوجہد شروع کردی۔ اس مقصد کے لیے سنجار (Palmyra) کا وسیع ہموار میدان منتخب کیا گیا۔ ایک مقام پر قطب شمالی کی بلندی کے ساتھ زاویہ قائم کر کے شمال کی جانب جریب سے ناپنا شروع کیا۔ 3/ 56 میل شمال کی جانب جانے سے قطب شمالی کی بلندی کے زاویہ میں ایک درجہ کی لمبائی بڑھ گئی۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ جب ایک درجہ کی مسافت سطح زمین پر 3/ 56 میل ہے تو زمین کا کل محیط (circumference) 20 ہزار میل سے زیادہ ہونا چاہیے۔ کیوں کہ ہر نقطہ پر تمام زاویوں کا مجموعہ 360 درجہ ہوتا ہے۔ اور 360 کو 3/ 56 میں ضرب دینے سے 20401 میل کا فاصلہ برآمد ہوتا ہے۔ دوبارہ یہی تجربہ دریائے فرات کے شمال میں صحرائے کوفہ میں کیا گیا اور دوبارہ وہی نتیجہ نکلا۔ یہ پیمائش حیرت انگیز طور پر قریب بہ صحت تھی۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ میں صحیح ترین پیمائش کے مطابق زمین کا محیط خط استواء پر 25 ہزار میل ہے۔ قرون وسطیٰ میں مسلمانوں کی سائنسی ترقی کی تفصیلات پروفیسر فلپ ہٹی (1978-1886ء) کی کتاب تاریخ عرب (History of the Arabs) میں دیکھی جا سکتی ہے (375)۔ سائنس کی مسلم دنیا سے علیحدگی علم کے مختلف میدانوں میں یہ ترقیاں جاری تھیں کہ باہمی اختلافات کے نتیجہ میں عرب خلافت کا نظام ٹوٹ گیا۔ اور اسلام کا جھنڈا عثمانی ترکوں (1922-1517ء) نے سنبھالا۔ اس طرح سولہویں صدی عیسوی میں اسلام کی سیاسی نمائندگی کا مرکز عرب سے نکل کر ترکی کی طرف منتقل ہو گیا۔ یہاں سے تاریخ میں ایک نیا انقلاب آیا جس نے واقعات کے رخ کو بالکل دوسری طرف موڑ دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader