سائنس کی مسلم دنیا سے علیحدگی
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ کا یہ عجیب المیہ ہے کہ ایک شخص جو کسی پہلو سے مفید خدمت انجام دیتا ہے، وہی کسی دوسرے پہلو سے بڑی مصیبت کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کی ہے۔ اس کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے خلفاء راشدین کی فہرست میں پانچویں خلیفہ راشد (عمر بن عبدالعزیز) کا اضافہ کیا۔ مگر مورخ اسی خلیفہ کے تذکرہ میں اس ہیبت ناک غلطی کو بھی لکھتا ہے کہ اس نے اپنے زمانہ کے انتہائی اہم فوجی سرداروں کو ختم کرا دیا۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی اچانک ٹھپ ہو کر رہ گئی۔ یہی صورت عثمانی ترکوں کے ساتھ پیش آئی۔ ترکوں نے عین اس وقت اسلام کا جھنڈا سنبھال لیا جب کہ کمزور ہاتھوں میں پہنچ کر اس کے گرنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا تھا۔ وہ کئی سوسال تک یورپ کی مسیحی طاقتوں کے مقابلہ میں اسلام کی دیوار بنے رہے۔ اس اعتبار سے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ یہی ترک ہیں جو اس حادثہ کا باعث بنے کہ مسلم دنیا میں ہونے والی سائنسی تحقیقات رک جائیں اور ان کا مرکز یورپ کی طرف چلا جائے۔ ترک انتہائی بہادر اور حوصلہ مند تھے۔ مگر ان کی کمزوری یہ تھی کہ وہ جاہل تھے۔ علمی تحقیق کے کام کی اہمیت نہ صرف یہ کہ وہ سمجھ نہیں سکتے تھے بلکہ وہ اس کو اپنے لیے ایک سیاسی خطرہ خیال کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ علم کے بڑھنے سے رعایا میں ان کے حق میں وفاداری کم ہو جائے گی اور ان کو قابو میں رکھنا نسبتاً زیادہ مشکل ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے علمی کام کے ساتھ سخت غیر رواداری کا ثبوت دیا۔ جب مسلم سیاست کا مرکز بدلا تو وہ لوگ جو بغداد اور دوسرے مراکز میں سائنس کی تحقیق کا کام کر رہے تھے، وہ منتقل ہو کر ترک دارالسلطنت آستانہ میں جمع ہوگئے۔ عباسی خلفاء ان لوگوں کے بے قدردانی کرتے تھے۔ انھوں نے ان کے اوپر درہم و دینار کی بارش کر رکھی تھی۔ مگر ترک ان کو اپنے لیے خطرہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader