سائنس کی مسلم دنیا سے علیحدگی
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
سمجھ کر ان سے نفرت کرنے لگے۔ انھوں نے ان کی اس قدر حوصلہ شکنی کی کہ ترک حکومت میں ان کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا۔ چنانچہ یہ لوگ ترک چھوڑ کر اٹلی اور فرانس جانا شروع ہو گئے ۔ سائنسی تحقیقی کا کام مسلم دنیا سے نکل کر مغربی دنیا میں منتقل ہو گیا۔ ترکوں نے علم اور اہل علم کی جس طرح حوصلہ شکنی کی اس کی دردناک تفصیل محمد کرد علی شامی کی کتاب الحضارة العربیہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ مغربی دنیا(western world) میں ان سائنسدانوں کی خوب پذیرائی ہوئی۔ صلیبی جنگوں(1271-1095ء) میں مسلمانوں کے مقابلہ میں یورپی قوموں کو شکست اس لیے ہوئی تھی کہ مسلمان علم وفن میں ان سے بڑھے ہوئے تھے۔ ان جنگوں میں ابتداء میں رومی فوجوں نے یونانی آگ (Greek Fire) استعمال کی جس سے مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔"یونانی آگ‘‘ایک قسم کی پچکاری تھی جس میں آتش گیر کیمیائی مرکب بھر کر دشمن کی طرف پھینکا جاتا تھا۔ مسلم سائنس دانوں نے اس کے مقابلہ میں ایک اور چیز ایجاد کی۔ اس میں روغن نفت (معدنی تیل) استعمال ہوتا تھا۔ اس کی مار زیادہ دور تک تھی اور اس کا نقصان بھی یونانی آگ سے بہت بڑھا ہوا تھا۔ یورپ کے مسیحی قدرتی طور پر مسلمانوں کے مقابلہ میں اپنی علمی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے بیتاب تھے۔ اب جو مسلم دنیا کے اہل علم ان کے یہاں پہنچے تو انھوں نے ان کے ساتھ زبردست تعاون کیا۔ یورپ میں علمی تحقیق کا وہ کام دگنی شدت کے ساتھ ہونے لگا جو اس سے پہلے مسلم دنیا میں ہو رہا تھا۔ سولہویں صدی عیسوی سے لے کر انیسویں صدی تک ، تقریباً تین سو سالہ عمل کے نتیجہ میں یورپ میں وہ انقلاب آیا جس کو سائنسی اور صنعتی انقلاب کہا جاتا ہے۔ مغرب کی سائنسی ترقی میں مسلمانوں کے حصہ کے بارے میں مزید تفصیل بريفالٹ کی کتاب تعمیر انسانیت(Making of Humanity) میں دیکھی جاسکتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader