عقلیات اسلام
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
سولھویں صدی تک مسلمان علم کے میدان میں استادی کے مقام پر تھے۔ مگر اس کے بعد کی صدیوں میں یورپ نے جو ترقیاں کیں اس نے مسلمانوں کو شاگردی کے مقام پر پہنچا دیا۔ مسلمان خود اپنی لائی ہوئی انقلابی دنیا میں دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے۔ تاہم اب بھی یہ موقع تھا کہ وہ یورپ کی تحقیقات سے فائدہ اٹھا کر آگے بڑھیں اور وہ واقعہ دوبارہ نئی شکل میں ظہور میں آئے جو مسلمانوں کے مقابلہ میں یورپ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ مسلمانوں کے علوم کو بنیاد بنا کر یورپ ان سے آگے بڑھ گیا تھا۔ اب مسلمان یورپ کے علوم کو لے کر مزید آگے کی ترقیاں حاصل کر سکتے تھے۔ مگر یہاں دو خاص وجہیں راستہ میں حائل ہو گئیں ۔ ایک تاریخی امکان واقعہ بن سے رہ گیا۔ سائنس کے معاملہ میں موجودہ مسلمانوں کی غفلت 1۔ صدیوں تک سائنسی علوم سے دور رہنے کے بعد یورپ کے ذریعہ جب سائنس مسلمانوں کی طرف آئی تو وہ صرف ایک علم کے طور پر نہیں آئی۔ بلکہ وہ ملک گیری اور استعمار کے جلو میں آئی۔ مسلمانوں کے پاس یہ سائنس لے کر وہ لوگ آرہے تھے جنہوں نے مسلمانوں سے ان کی عظمت اور ان کے اقتدار کو چھینا تھا۔ ان کی تہذیب اور ان کے مذہبی شعائر پر حملے کیے تھے۔ اس موقع پر مسلمان اس دانش مندی کا ثبوت نہ دے سکے کہ وہ مغربی سائنس کو مغربی سیاست سے الگ کر کے دیکھیں۔ انھوں نے دونوں کو ایک سمجھا۔ وہ جس طرح مغربی قوموں کے دشمن بنے، اسی طرح وہ مغربی علوم کے بھی دشمن بن گئے۔ جب کہ دوسری قومیں مغرب سے ان کے علوم سیکھ رہی تھیں، مسلمان ان کو دشمن کی چیز سمجھ کر ان سے دور بھاگ رہے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان دوسری قوموں سے کم از کم سو سال علم میں پیچھے ہو گئے، قوموں کے اوپر علمی امام بننے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ 2۔ مزید نقصان یہ ہوا کہ طویل غفلت کے بعد مسلمانوں میں جو لوگ علم کے مبلغ بن کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader