Urdu book · عقلیات اسلام

مسلمانوں کی غفلت

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

اٹھتے وہ اس کام کے پوری طرح اہل نہ تھے۔ انھوں نے ایک صحیح کام کو غلط طریقہ سے انجام دینے کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں ان کو وہ قبولیت حاصل نہ ہوسکی جو باعتبار حقیقت انھیں حاصل ہونی چاہیے تھی۔ مثال کے طور پر علم جدید کی اہمیت ثابت کرنے کے لیے انھوں نے یہ کیا کہ قرآن و حدیث میں جہاں جہاں ”علم“ کا لفظ آیا ہے اس کو انھوں نے ان سیکولر علوم کا مصداق بتایا جو آج یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ یہ ایک صحیح بات کے لیے غلط دلیل پیش کرنا تھا۔ کیوں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن و حدیث میں جس علم کی فضیلت بیان ہوئی ہے اس سے مراد علم دین ہے، نہ کہ سیکولر یا سائنسی علوم۔ ان کو حاصل کرنا یقیناً مسلمانوں کے لیے ضروری ہے۔ مگر ان علوم کی اہمیت آیت قوت (انفال، 8:60) سے ثابت ہوتی ہے، نہ کہ آیت علم سے۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اس قوت کو حاصل کرو جس سے تمھارے حریف کے اوپر تمھاری دھاک قائم ہو۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی علوم نے یہی مقام حاصل کر لیا ہے۔ اس لیے سائنسی علوم کا حاصل کرنا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے۔ سائنسی علوم میں دستگاه حاصل کیے بغیر مسلمان آج کی دنیا میں قوت مرہبہ (انفال، 8:60) کے مالک نہیں بن سکتے، اس لیے اس قرآنی حکم کی تعمیل میں موجودہ حالات کے لحاظ سے یہ بات بھی شامل ہوگی کہ وہ ان علوم کو حاصل کریں اور ان کو اسلام اور مسلمانوں کی تقویت کا ذریعہ بنائیں۔ موجودہ زمانہ کے تعلیمی مصلحین کی اس غلطی کا نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کا دینی طبقہ ان کا سخت مخالف ہو گیا۔ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةً عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ (سنن ابن ماجه، حديث نمبر 224) جیسی نصوص کا مطلب دینی طبقہ کے نزدیک متفقہ طور پر یہ تھا کہ اس سے مراد کتاب وسنت کا علم حاصل کرنا ہے۔ جب تعلیمی مصلحین نے اس طرح کی آیتوں اور حدیثوں کو موجودہ زمانہ کے ”دیناوی علوم پر چسپاں کیا تو دینی طبقہ کو یہ بات سراسر اسلام کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page