Urdu book · عقلیات اسلام

قرآن کا فلسفہ

Urdu book, p. 200

By Maulana Wahiduddin Khan

علم کیا ہے، اور انسان اس علم تک کس طرح پہنچتا ہے یا پہنچ سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں جدید سائنس نے یہ اصول وضع کیا ہے کہ علم تک پہنچنے کے تین مرحلے ہیں: 1۔ مشاہدہ (observation) 2۔ مفروضہ (hypothesis) 3۔ تصدیق (verification) اس کا مطلب یہ ہے کہ اولا آدمی کے سامنے کچھ واقعات آتے ہیں۔ ان واقعات کی توجیہ کے لیے اس کے ذہن میں ایک مفروضہ قائم ہوتا ہے۔ اب وہ مزید مطالعہ شروع کرتا ہے۔ اگر مزید یا وسیع تر مطالعہ اس کے مفروضہ کی تصدیق کرے تو مان لیا جائے گا کہ وہ حقیقت ہے۔ اس آخری مرحلہ میں پہنچ کر ابتدائی مفروضہ ثابت شدہ حقیقت (proved fact) بن جاتا ہے۔ اس کی ایک سادہ مثال یہ ہے کہ زمین پر قدیم انسان نے دیکھا کہ یہاں خشکی کے حصے بھی ہیں اور سمندر بھی۔ اس نے ابتدائی طور پر یہ مفروضہ قائم کیا کہ زمین پر آدھا خشکی ہے اور آدھا حصہ پانی۔ یہ مفروضہ یونانی فلسفیوں کے زمانہ سے لے کر ابن خلدون تک قائم رہا۔ اس کے بعد خشکی اور سمندر کے سفروں سے آدمی نے یہ جانا کہ خشکی کے مقابلہ میں پانی کا حصہ زمین پر زیادہ ہے۔ اس دوسرے مشاہدہ سے پہلا مفروضہ رد ہو گیا۔ اب دوسرا مفروضہ یہ قائم ہوا کہ زمین پر پانی کا حصہ دو تہائی ہے اور خشکی کا حصہ ایک تہائی۔ اس کے بعد مزید ذرائع انسان کو حاصل ہوئے اور یہ ممکن ہو گیا کہ خشکی کے حصہ اور پانی کے حصہ کی باقاعدہ پیمائش کی جاسکے۔ چنانچہ باقاعدہ پیمائش سے معلوم ہوا کہ زمین کی سطح پر پانی کا حصہ 71 فیصد ہے اور خشکی کا حصہ 29 فیصد۔ بعد کے اس مشاہدہ نے دوسرے مفروضہ کی تصدیق کردی اور وہ مسلمہ حقیقت کے طور پر مان لیا گیا۔ قرآن کا فلسفہ بھی تقریباً یہی ہے۔ البتہ مقدمات کی ترتیب کے اعتبار سے دونوں میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page