Urdu book · عقلیات اسلام

قرآن کا فلسفہ

Urdu book, p. 201

By Maulana Wahiduddin Khan

معمولی فرق پایا جاتا ہے۔ قرآن کا فلسفہ یا قرآن کا طریقِ تکفیر معمولی فرق کے ساتھ یہ ہے کہ اس میں سب سے پہلے ’’مفروضہ‘‘ قائم ہوتا ہے۔ اس کے بعد ’’مشاہدہ‘‘ کی روشنی میں اس پر غور و فکر کیا جاتا ہے۔ اور پھر آخر میں ’’تصدیق‘‘ کا درجہ آتا ہے۔ یعنی قرآن کے دعویٰ (مفروضہ) کو لے کر اس پر غور کرنا۔ اور پھر غور و فکر کی سطح پر مفروضہ کی واقعیت ثابت ہونے کے بعد اس کو مسلمہ حقیقت مان لینا۔ اسی آخری درجہ معرفت کا نام قرآن کی اصطلاح میں ایمان ہے۔ گویا سائنس کے طریقِ علم کی ترتیب یہ ہے: مشاہدہ، مفروضہ، تصدیق۔ اس کے مقابلہ میں قرآن کے طریقِ علم کی ترتیب یہ ہے: مفروضہ، مشاہدہ، تصدیق: Science: Observation- Hypothesis-Verification Qur'an: Hypothesis- Observation-Verification دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عام انسانی فلسفہ میں فکر کا آغاز تلاش (pursuit) سے ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، قرآنی فلسفہ میں فکر کا آغاز دریافت (finding) سے ہوتا ہے۔ قرآن ابتداء میں یہ دعویٰ یا علمی زبان میں، مفروضہ پیش کرتا ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے اور اس کائنات کا ایک انجام ہے۔ اس کے بعد قرآن تخلیقی دنیا کے مختلف شواہد (آیات) انسان کے سامنے لاتا ہے۔ اور انسان سے کہتا ہے کہ ان شواہد پر غور کرو اور دیکھو کہ کیا یہ شواہد قرآن کے دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔ اب تک کے تجربات بتاتے ہیں کہ کائنات کے تمام حقائق معلومہ (known facts) قرآن کے بیان کی تصدیق کر رہے ہیں۔ کوئی بھی معلوم حقیقت ایسی نہیں جو قرآن کے بیان سے ٹکرانے والی ہو یا اس کو مشتبہ ثابت کرتی ہو۔ اس کی ایک مثال لیجیے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں یہ اعلان کیا کہ مجھ پر خدا نے اپنے فرشتہ کے ذریعہ وحی بھیجی ہے۔ اس پر مکہ کے لوگوں نے کہا کہ ہم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page