Urdu book · عقلیات اسلام

قرآن کا فلسفہ

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

تمہاری بات کو صرف اس وقت مانیں گے جبکہ ہم اپنی آنکھ سے دیکھیں کہ فرشتہ خدا کی وحی لے کر آسمان سے تمہارے پاس آ رہا ہے۔ اس کے جواب میں قرآن میں کہا گیا کہ لوگ تم سے وحی کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ وحی خدا کے حکم سے ہے اور تم کو صرف تھوڑا علم دیا گیا ہے (17:85)۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ تھا کہ مکہ کے لوگ پیغمبر اسلام کے دعوی رسالت پر براہ راست دلیل مانگ رہے تھے۔ مگر قرآن نے یہ جواب دیا کہ تم اس معاملہ کو بالواسطہ دلیل یا استنباطی دلیل کے ذریعہ ہی سمجھ سکتے ہو۔ کیوں کہ تم اپنی محدودیت کی وجہ سے اس معاملہ میں براہ راست دلیل کا تحمل نہیں کر سکتے۔ یہ معاملہ اسی طرح متنازعہ صورت میں تاریخ میں چلتا رہا۔ یہاں تک کہ 19 ویں صدی میں سائنسی ذرائع کی دریافت کے بعد جدید مفکرین نے یہ اعلان کر دیا کہ ہمیں کسی معاملہ میں بالواسطہ یا استنباطی استدلال پر قانع رہنے کی ضرورت نہیں۔ ہم جدید ذرائع کی مدد سے تمام امور پر براہ راست دلیل قائم کر سکتے ہیں۔ مگر بیسویں صدی کی تحقیقات نے آخری طور پر یہ ثابت کر دیا کہ انسان کی ذہنی محدودیت فیصلہ کن طور پر اس راہ میں حائل ہے کہ وہ کسی بھی حقیقت پر براہ راست دلیل قائم کر سکے۔ چنانچہ بیسویں صدی کے نصف آخر میں متفقہ طور پر مان لیا گیا کہ بالواسطہ یا استنباطی استدلال عین معقول استدلال (valid argument) ہے، بشرطیکہ وہ ثابت شدہ مشاہدات پر مبنی ہو۔ اور تمام متعلق مشاہدات کی زیادہ بہتر توجیہ کرتا ہو۔ مثال کے طور پر نظریہ ارتقاء (evolution theory) کو اسی بنا پر سائنس دانوں کے درمیان عمومی قبولیت (general acceptance) کا درجہ حاصل ہو گیا تھا۔ حتیٰ کہ کچھ لوگوں نے اس کو ثابت شدہ حقیقت (proved fact) کہنا شروع کر دیا۔ حالانکہ ارتقاء کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page