قرآن کا فلسفہ
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
نظریہ اتنے لمبے ماضی سے تعلق رکھتا ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اس کا براہ راست مشاہدہ کیا جا سکے یا اس پر براہ راست دلیل قائم کی جائے۔ ارتقاء کا نظریہ تمام تر ایک استنباطی نظریہ ہے، نہ کہ براہ راست مشاہدہ میں آنے والا نظریہ۔ نظریہ ارتقاء کیا ہے۔ نظریہ ارتقاء کا فارمولا چند لفظوں میں یہ ہے ــــ دوباره پیدائش، فرق، اور فرق کا باقی رہنا: Reproduction, variation, and differential survival. اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک حیوان کے یہاں تولید تناسل سے بچے پیدا ہوئے۔ ان میں باہم فرق تھا۔ مثلاً کوئی چھوٹا تھا کوئی بڑا۔ بڑے بچے توالد تناسل کے عمل کے تحت دوبارہ تھوڑا تھوڑا بڑے ہوتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ بکری کا بچہ لمبی مدت تک فرق جمع ہونے کے نتیجہ میں زرافہ بن گیا۔ اس سے قطع نظر کہ یہ نظریہ صحیح ہے یا غلط، منطقی اعتبار سے یہ استدلال سراسر استنباطی استدلال ہے۔ اسی طرح کے استنباطی استدلالات پر ان تمام نظریات کی بنیاد قائم ہے جن کو موجودہ زمانہ میں سائنٹفک نظریات کہا جاتا ہے۔ سائنس کے حلقہ میں جتنے بھی نظریات قائم کیے گئے ہیں، وہ سب اسی طرح بالواسطہ استدلال پر مبنی ہیں۔ یہ نظریات اس وقت تک قائم رہتے ہیں جب تک کوئی نیا مشاہدہ سابقہ توجیہ یا استنباط کو مشتبہ ثابت نہ کرے۔ اسلامی عقائد پر منطقی استدلال کی نوعیت بھی عین یہی ہے۔ اگر کائناتی مشاہدات اسلامی عقائد کی تائید کرتے ہوں اور ان مشاہدات سے جائز طور پر ان کا استنباط ہورہا ہو تو وہ عین جدید سائنسی منطق کے مطابق درست اور قابل تسلیم قرار پائیں گے۔ صرف اس بنا پر ان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ استنباطی استدلال پر مبنی ہیں۔ ایسا کرنے کے بعد صرف اسلامی عقائد ہی رد نہیں ہوں گے بلکہ سائنس کا پورا قلعہ بھی مکمل طور پر منہدم ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader