قرآن کا فلسفہ
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں 1400 سال پہلے یہ کہا گیا تھا کہ انسان کو صرف علم قلیل (بنی اسرائیل، 85) دیا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں خالص سائنسی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسانی ذہن کی کچھ ناگزیر محدودیتیں (limitations) ہیں اور ان محدودیتوں کی وجہ سے انسان کے لیے صرف محدود علم تک پہنچنا ممکن ہے۔ چنانچہ جدید سائنسی منطق کا یہ کہنا ہے کہ ہم اپنی موجودہ صلاحیتوں کے ساتھ صرف قرینہ (probability) تک پہنچ سکتے ہیں۔ قرینہ سے آگے ہمارے علم کی رسائی ممکن نہیں۔ جدید سائنس کا یہ موقف اسلام کی اس عقلیت کو برحق ثابت کرتا ہے جس کو ثانوی عقلیت کہا جاتا ہے۔ یہاں پہنچ کر سائنس کا موقف اور اسلام کا موقف دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔ سائنس کا موقف جدید ترین تحقیقات کی روشنی میں یہ ہے کہ ہم ایک مفروضہ قائم کریں اور ممکن تجربات اور مشاہدات پر ان کو جانچیں۔ اگر ہمارے تجربات اور مشاہدات اس مفروضہ کی تصدیق کریں تو ہمیں گمان کرنا چاہیے کہ مفروضہ درست ہے۔ عین یہی موقف اسلامی فلسفہ کا بھی ہے۔ اسلام یہ کرتا ہے کہ وہ وحی کی صورت میں ہمارے سامنے ایک "مفروضہ" رکھ دیتا ہے۔ اور یہ کہتا ہے کہ مشاہدات اور تجربات کی جو بھی معلوم مقدار ہے، اس پر جانچ کر اسے دیکھو۔ اگر معلوم مشاہدات اور تجربات اس سے نہ ٹکرائیں، بلکہ وہ اس کی تصدیق کریں تو یہ اس بات کا قرینہ ہوگا کہ وحی کی صورت میں مفروضہ قائم کیا گیا تھا وہ عین درست تھا۔ نیوٹن نے دیکھا کہ سیب درخت سے ٹوٹ کر زمین پر گر گیا۔ اس سے اس نے یہ نظریہ یا مفروضہ قائم کیا کہ زمین میں کھینچنے کی طاقت ہے۔ اس واقعہ میں سیب کا گرنا ایک مشہور واقعہ ہے، مگر زمین کی قوت کشش ایک غیبی واقعہ۔ اس واقعہ میں سائنس داں نے ایک غیبی واقعہ کو صرف اس لیے مان لیا کہ ایک مشہود واقعہ اس کی موجودگی کا قرینہ پیش کر رہا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader