قرآن کا فلسفہ
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا۔ اصولی طور پر، ٹھیک یہی طریقہ استدلال قرآن میں بھی اختیار کیا گیا ہے۔ قرآن بھی یہی کرتا ہے کہ وہ مشہود حقائق (قرائن) سے غیبی حقائق پر دلیل قائم کرتا ہے۔ اس طرز استدلال کی ایک مثال قرآن میں یہ ہے: أَفَعَعِينَا بِالْخُلْقِ الْأَوَّلِ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیدٍ (50:15)۔ یعنی، کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے عاجز رہے، بلکہ یہ لوگ از سر نو پیدا کرنے کی طرف سے شبہ میں ہیں۔ سورۃ ق کی اس آیت میں تخلیق اول سے تخلیق ثانی پر استدلال کیا گیا ہے۔ اس استدلال کی منطق یہ ہے کہ پہلے زندگی بعد موت کا دعویٰ پیش کیا گیا۔ اس کے بعد زندگی قبل موت کا مشاہدہ سامنے لایا گیا۔ اور پھر کہا گیا کہ جب پہلی بار بے زندگی سے زندگی کا وجود میں آنا ممکن تھا تو دوسری بار بے زندگی سے زندگی کا وجود میں آنا کیوں ناممکن ہوگا۔ انسان خود اپنے وجود کی صورت میں اور دوسرے بے شمار انسانوں کی موجودگی کی صورت میں پہلی تخلیق کا تجربہ کر رہا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ انسان ایک مکمل وجود کے طور پر پہلی بار دنیا میں آتا ہے۔ اس کے بعد وہ مر کر دوبارہ اپنی قبل از پیدائش حالت کی طرف واپس چلا جاتا ہے۔ گویا کہ انسان حالت موت سے حالت زندگی میں آیا۔ اور اس کے بعد پھر حالت موت میں چلا گیا۔ اب اگر ایک بار حالت موت سے حالت زندگی میں آنا ممکن تھا تو دوسری بار حالت موت سے حالت زندگی میں آنا کیوں ناممکن ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی بار زندگی کا ثابت ہونا، دوسری بار زندگی کو اپنے آپ ثابت کر دیتا ہے۔ اصولی اعتبار سے، قرآن کے استدلال اور سائنس کے استدلال میں کوئی فرق نہیں۔ تمام سائنسی نظریات میں معلوم سے نامعلوم پر دلیل قائم کی جاتی ہے۔ اسی طرح قرآن میں بھی معلوم سے نامعلوم یا شہود سے غیب پر دلیل قائم کی گئی ہے۔ قرآن کا طریق استدلال بھی اتنا ہی سائنٹفک ہے جتنا علوم مادی کا استدلال۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader