Urdu book · عقلیات اسلام

وضعی قانون اور الہی قانون

Urdu book, p. 213

By Maulana Wahiduddin Khan

اس تنقید کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا کہ قانون کی یہ سوشلسٹ تفسیر قانون کے معیاری کردار (normative character) کا انکار کررہی ہے اور قانون کو گھٹا کر صرف اقتصادی قانون بنا دیتی ہے: It reduces law to economic law. اگرچہ عملی طور پر ساری دنیا میں یہی صورت حال ہے کہ سیاسی طاقت کے زور پر قوانین بنتے ہیں اور رائج کیے جاتے ہیں۔ مگر علمائے قانون کا ایک طبقہ اس سے بے نیاز ہو کر اصول قانون کی علمی تلاش میں مصروف ہے۔ تاہم اس کی اب تک کی تلاش نے اس کو صرف اس نتیجہ تک پہنچایا ہے کہ اصول قانون کے معاملہ میں کسی متفقہ معیار تک پہنچنا ممکن نہیں۔ کیوں کہ اس تلاش کا مقصد قانونی معیارات (legal norms) کا تعین ہے، اور قانونی معیارات کا تعین اسی وقت ہوسکتا ہے جب کہ بنیادی انسانی اقدار کا تعین ہو جائے ۔ اور تمام علماء کا فیصلہ ہے کہ اقدار (values) کی دریافت خالص عقلی طریقوں سے ممکن نہیں۔ اصول قانون کا مقصد قانون کی فلسفیانہ بنیاد (Philosophical Foundation) یا اس کی قانونی قدر (legal value) تلاش کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اصول قانون کا کام یہ ہے کہ وہ قانون کے لیے وجہ جواز (justification) فراہم کرے۔ جب تک کوئی قانون اپنی پشت پر قابل قبول اصول قانون نہ رکھتا ہو، عقلاً جائز نہیں کہ وہ ان انسانوں کے اوپر نافذ کیا جائے جن کے لیے کسی چیز کی قدر و قیمت جاننے کا واحد معیار عقل ہے۔ چنانچہ معلوم تاریخ کے مطابق انسان ڈھائی ہزار سال سے اس تلاش و جستجو میں مصروف ہے، مگر بے شمار دماغوں کی جد و جہد کے باوجود اب تک وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ قانون کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب انسان لکھنا نہیں جانتا تھا، اس وقت بھی قانون کسی نہ کسی شکل میں موجود تھا۔ تحریر کی دریافت کے بعد اس کو لکھا بھی جانے لگا۔ سب سے قدیم تحریری قانون جو مل سکا ہے، وہ سمیری بادشاہ حمورابی کا قانون ہے جو 1900 ق م

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page