Urdu book · عقلیات اسلام

وضعی قانون اور الہی قانون

Urdu book, p. 214

By Maulana Wahiduddin Khan

میں وضع ہوا تھا۔ سمیری قوم دجلہ و فرات کی وادی میں رہتی تھی۔ اصولِ قانون پر غور و فکر کا کام، تاریخی ریکارڈ کے مطابق، یونانی فلسفہ سے شروع ہوا۔ سولن جو قدیم یونان کا مشہور قانون داں تھا، اس کا زمانہ مسیح سے چھ سو سال قبل کا ہے۔ افلاطون (427-347 ق م) کی کتاب قانون پر قدیم زمانہ کی مشہور ترین کتاب ہے۔ قانونی پیشہ بھی سب سے پہلے روم میں مسیح سے تقریباً پانچ سو سال قبل شروع ہوا۔ پندرھویں صدی تک قانونِ علم الہیات ہی کا ایک جزء سمجھا جاتا تھا۔ سولھویں صدی میں وہ نیا ذہن پیدا ہوا جس نے بالآخر قانون کو مذہب سے الگ کر دیا۔ تاہم اب بھی وہ علمِ سیاست کا ایک جزء بنا رہا۔ انیسویں صدی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے فلسفہ قانون کو فلسفہ سیاست سے الگ کیا اور اصول قانون کو ایک مستقل علم کی حیثیت سے ترقی دے کر اس کو اختصاصی مطالعہ کا موضوع بنا دیا۔ قدیم زمانہ کے فلسفہ کچھ مسلمات سے اپنا اصول قانون اخذ کرتے تھے جن کو وہ فطری حقوق کہتے تھے۔ سولھویں صدی کے بعد یورپ میں جو ذہنی انقلاب آیا، اس نے ثابت کیا کہ یہ مسلمات حقیقتہً مفروضات ہیں جن کے لیے کوئی عقلی دلیل موجود نہیں۔ اس کے بعد فرد کی آزادی سب سے بڑا مسلمہ قرار پائی جس کو اصولِ قانون کی بنیاد بنایا جا سکتا تھا۔ مگر صنعتی انقلاب کے نتائج نے بتایا کہ فرد کی آزادی کو اگر خیرِ اعلیٰ (summum bonum) مان لیا جائے تو وہ انسانیت کو استحصال اور انارکی کے سوا اور کہیں نہیں پہنچاتی۔ اب اجتماعی بھلائی (social good) کو سب سے بڑا خیر قرار دیا گیا جو قانون سازی کے لیے رہنما اصول کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر جب اس نظریہ کے پہلے ہی استعمال سے ایک ہولناک سیاسی جبر وجود میں آیا تو معلوم ہوا کہ فرد کی آزادی اگر سماج کے لیے نقصان دہ تھی تو سماجی بھلائی کا یہ نظریہ فرد کو مجبور و مقہور بنا کر رکھ دیتا ہے۔ بیسویں صدی فرد اور سماج کے درمیان مطابقت تلاش کرنے کی صدی ہے۔ موجودہ صدی کے نصف ثانی میں جن مدارسِ فکر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page