Urdu book · عقلیات اسلام

وضعی قانون اور الہی قانون

Urdu book, p. 215

By Maulana Wahiduddin Khan

کو قبولیت حاصل ہوئی ، ان کا خلاصہ یہ تھا کہ وہ کسی نہ کسی طور پر قانون کی ایسی بنیاد ڈھونڈ رہے تھے جہاں فرداور سماج کے مختلف تقاضوں کو ہم آہنگ کیا جاسکے۔ مگر یہ تجربہ بھی ناکامی کے سوا کہیں اور پہنچتا ہوا نظر نہیں آتا۔ آج بھی ایسی کتابیں شائع ہو رہی ہیں جن کا ٹائٹل اس قسم کا ہوتا ہے ـــــ قانون خود اپنی تلاش میں : Law in Quest of Itself. حتیٰ کہ علمائے قانون کے ایک طبقہ نے اپنا یہ آخری فیصلہ دے دیا ہے کہ ایسی کسی کوشش کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں: A purely logical interpretation of legal rules is impossible. قانونی احکام کی خالص منطقی تعبیر ناممکن ہے۔ گسٹاور یڈ برش (1949-1878ء) کا کہنا ہے کہ مطلوبہ قانون صرف بذریعہ اقرار (confession) اپنایا جا سکتا ہے ، نہ اس لیے کہ وہ علمی طور پر معلوم (scientifically known) ہے۔ ریڈ برش (Gustav (Radbruch کی مثال کوئی انفرادی مثال نہیں ، بلکہ اسی بنیاد پر ایک مستقل مدرسہ فکر وجود میں آیا ہے جس کو اضافی مدرسہ فکر کہتے ہیں۔ اس فکر کے حاملین (relativists) کا کہنا ہے : Absolute judgements about law are not discoverable. یعنی ، مطلق قانون قابل دریافت نہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا ، اصول قانون کی اصل مشکل یہ ہے کہ وہ جس چیز کی تلاش میں ہے ، اس کا براہ راست تعلق مسئلہ اقدار سے ہے اور یہ مسئلہ وہ ہے جہاں انسانی عقل اپنی ساری کوشش کے باوجود کسی متفقہ جواب تک پہنچنے میں قطعاً ناکام رہی ہے۔ ایک طرف یہ صورت ہے کہ انسان ، وجدانی طور پر ، خیر و شر کا اتنا شدید احساس رکھتا ہے کہ اس کو نہ تو اٹھارویں صدی کے میکانکی فلسفے ختم کر سکے اور نہ سوویت روس کا کلیت پسندانہ نظام ، جس کو نصف صدی سے بھی زیادہ طویل عرصہ تک یہ موقع ملا کہ وہ نسل انسانی کو اپنے نظریاتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page