Urdu book · عقلیات اسلام

وضعی قانون اور الہی قانون

Urdu book, p. 216

By Maulana Wahiduddin Khan

کارخانہ میں ڈھال سکے۔ دوسری طرف یہ مشکل کہ بہترین دماغوں کی ساری کوشش بھی اقدار کا کوئی متفقہ معیار تلاش کرنے میں مکمل طور پر کام رہی ہے۔ سائنس کی ترقی اس کو زیادہ سے زیادہ واضح کرتی جارہی ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں اقدار اپنا کوئی معروضی مقام (objective status) نہیں رکتیں۔ جوزف وڈ کرچ (1893-1970) نے اپنی کثیر الاشاعت کتاب (The Modern Temper) میں اس کا مطالعہ کیا ہے۔ ”خواہ انسان کتنی ہی کوشش کرے“ پروفیسر کرچ (joseph Woodkrutch) لکھتے ہیں” اس کی روح کے دو نصف مشکل ہی سے باہم متحد ہوسکتے ہیں۔ اور وہ نہیں جانتا کہ وہ اس طرح خیال کرے جیسے کہ اس کی عقل بتاتی ہے کہ اسے خیال کرنا چاہیے، یا وہ اس طرح محسوس کرے جیسے اس کے جذبات اس کو محسوس کراتے ہیں۔ اور اس طرح وہ اپنی بر باد اور تقسیم شدہ روح کے اندر ایک مضحکہ بن کر رہ گیا ہے۔“ کرچ کا یہ جملہ اکثر نقل کیا گیا ہے ۔ انسان ایک اخلاقی جانور ہے ایک ایسی کائنات میں جو اپنے اندر کوئی اخلاقی عنصر نہیں رکھتی۔: Man is an ethical animal in a universe which contains no ethical element. p.16 کرچ کی غلطی یہ ہے کہ اس نے اپنے دائرہ سے باہر قدم رکھ دیا ہے۔ میں جس بنیادی نکتہ پر زور دینا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ جو چیز ثابت ہوئی ہے، وہ یہ نہیں کہ اقدار کا کوئی وجود نہیں ہے۔ بلکہ یہ کہ انسان ان کو دریافت نہیں کر سکتا۔ یہاں میں ڈاکٹر الکس کیرل (1873-1944ء) کا حوالہ دوں گا۔ ڈاکٹر کیرل (Alexis Carrel) نے اپنی کتاب انسان نامعلوم (Man The Unknown) میں دکھایا ہے کہ اقدار کا مسئلہ اتنے مختلف النوع علوم کی کامل واقفیت سے تعلق رکھتا ہے جن کو انسان اپنی محدود عمر میں کسی طرح حاصل نہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page