عقلیات اسلام
Urdu book, p. 217
By Maulana Wahiduddin Khan
کر سکتا۔ ان کو حاصل کر کے ان کا تجزیہ کرنا اور نتیجہ نکالنا تو درکنار۔ انھوں نے مزید اس بات کو رد کر دیا ہے کہ ماہرین کی ایک کمیٹی اس مسئلہ کی تحقیق کر کے کسی آخری نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کرے، کیوں کہ ”ایک اعلیٰ آرٹ کی تخلیق ایک ذہن کرتا ہے، اعلیٰ آرٹ کسی اکیڈمی کے ذریعہ کبھی وجود میں نہیں آتا۔“ سگمنڈ فرائڈ (1856-1939ء) کے وقت سے اب تک نفسیات کے جو مختلف اسکول وجود میں آئے ہیں، وہ باہمی اختلافات کے باوجود اس مشترکہ کوشش میں مصروف رہے ہیں کہ نفسیات کا کوئی ایسا علم وجود میں لائیں جو اقدار سے آزاد (Value Free Science) ہو۔ مگر یہ ایک واقعہ ہے کہ ایک صدی کی مسلسل کوششوں کے باوجود وہ اس منزل تک پہنچنے میں بالکل ناکام رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اب ان کے درمیان اس کے خلاف رد عمل شروع ہو گیا ہے۔ مثلاً امریکا کا ممتاز ماہر نفسیات ابرہام میسلو (1908-1970ء) جو خود ثبوتی کردار یت (Positivistic-Behavioristic Tradition) کے زیر سایہ تیار ہوا تھا، اپنی عمر کے آخری حصہ میں وہ انسانی فطرت کے دور تر گوشے (Farther reaches of human nature) کی تلاش میں مصروف ہو گیا۔ میسلو (Abraham Maslow) کا کہنا ہے: Psychology had voluntarily restricted itself to only half of its rightful jurisdiction. نفسیات نے اپنے جائز حدود کار کے نصف حصہ سے بطور خود اپنے آپ کو روک لیا۔ الہی قانون وضعی قانون کی ناکامی کے بارے میں اوپر میں نے جو اشارات کیے، وہ ہر وہ شخص جانتا ہے جس نے اصول قانون کا مطالعہ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قانون دانوں کا یہ مفروضہ قطعی طور پر بے بنیاد ثابت ہو چکا ہے کہ انسان خود اپنے لیے قانونی معیار دریافت کر سکتا ہے۔ اس کے بعد ہمارے سامنے دوسرا مفروضہ آتا ہے اور وہ الہی قانون کا مفروضہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader