Urdu book · عقلیات اسلام

الہی قانون

Urdu book, p. 218

By Maulana Wahiduddin Khan

الہی قانون، جس کا محفوظ اور مستند متن قرآن کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ قانون کا ماخذ خدا کا الہام ہے۔ یعنی یہ کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے۔ خدا نے الہام کے ذریعہ اپنا قانون اپنے رسول پر اتارا ہے، یہی قانون انسان کے لیے صحیح ترین دستور العمل ہے۔ اس قانون کی بنیاد پر قیاس اور اجتہاد کر کے مزید قانون سازی ہو سکتی ہے۔ مگر اصولی طور پر اس سے انحراف جائز نہیں۔ میں پیشگی طور پر اعتراف کرتا ہوں کہ خالص علمی اعتبار سے یہ ایک پیچیدہ دعویٰ ہے۔ مگر چونکہ خصوصی طور پر قابل لحاظ ہے، وہ یہ کہ اس کی پیچیدگی کے اسباب خود قانون میں ہونا ضروری نہیں۔ وہ اس واقعہ میں بھی ہو سکتے ہیں کہ ہماری عقل کچھ محدودیتوں (limitations) کا شکار ہے اور اس بنا پر وہ سارے حقائق کا براہ راست احاطہ نہیں کر سکتی۔ خوش قسمتی سے جدید سائنس کا موقف اس معاملہ میں ہماری تائید کرتا ہے۔ جدید سائنس نے یہ اعتراف کیا ہے کہ حقائق کی مقدار صرف اتنی ہی نہیں جو براہ راست ہمارے حسیا تی تجربہ میں آتی ہیں، بلکہ اس سے آگے اور بھی حقائق ہیں۔ مزید یہ کہ نامعلوم حقائق نہ صرف معلوم حقائق سے مقدار میں زیادہ ہیں بلکہ وہ معلوم حقائق کے مقابلہ میں زیادہ اہم اور معنی خیز ہیں۔ امریکی پروفیسر فرڈ برتھولڈ (Fred Berthold) نے منطقی ثبوتیت (logical positivism) کے فلسفہ کو چند لفظوں میں اس طرح سمیٹا ہے: The important is unknowable, and the knowable is unimportant جو چیز اہم ہے وہ نا قابل دریافت ہے اور جو چیز قابل دریافت ہے، وہ اہم نہیں۔ 19 ویں صدی میں یہ فرض کر لیا گیا تھا کہ انسان کلی حقیقت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر چہ اس وقت بھی کلی حقیقت عملاً انسان کی دسترس سے اتنی ہی دور تھی جتنی اس سے پہلے یا اس کے بعد رہی ہے۔ تا ہم یہ یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن انسان ضرور اسے دریافت کر لے گا۔ مگر بیسویں صدی کے سائنسداں خود ثبوتیت (positivism) یا فعلیت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page