الہی قانون
Urdu book, p. 219
By Maulana Wahiduddin Khan
(operationalism) کے جھنڈے کے نیچے ہم کو بتا رہے ہیں کہ یہ فرض کر لینا بالکل غلط تھا کہ سائنس ہم کو آخری حقیقت (ultimate reality) یا خیر (good) کے بارے میں کوئی بات بتا سکتی ہے۔ وقت کا دوسرا فلسفہ جس کو وجودیت (existentialism) کہا جاتا ہے، وہ بھی ہم کو یقین دلا رہا ہے کہ اس کی کوئی صورت نہیں کہ محدود انسان خیر کا ایسا معیار (norm) دریافت کر سکے جو اس سے ماورا ہو۔ ان دریافتوں کے بعد انسانی علم اب جس مسلمہ پر پہنچا ہے، وہ یہ ہے کہ قطعی دلائل صرف اس میدان تحقیق میں قائم کیے جا سکتے ہیں جن کو برٹش فلاسفر برٹرینڈ رسل (1872-1970) نے چیزوں کا علم (knowledge of things) کہا ہے۔ دوسرا میدان تحقیق جو اس کے الفاظ میں صداقتوں کا علم (knowledge of truths) سے تعلق رکھتا ہے، ان میں براہ راست دلیل قائم کرنا ممکن نہیں۔ چنانچہ مان لیا گیا ہے کہ ہم کسی معاملہ میں قطعیت (certainty) تک نہیں پہنچ سکتے۔ ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ اغلب رائے (probable judgement) تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ یہ بات صرف غیر مادی حقائق تک محدود نہیں ہے بلکہ بہت سی وہ چیزیں جن کو مادی حقائق میں شمار کیا جاتا ہے، ان کا معاملہ بھی تقریباً ایسا ہی ہے، جیسے روشنی، یا مقناطیسی قوت کی تشریح۔ میں یہ کہنے کی جرات کروں گا کہ فیصلہ کی یہ بنیاد جو جدید علم نے فراہم کی ہے، وہ عین الہی قانون کے حق میں ہے۔ الہی قانون کا یہ مفروضہ کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے، غالباً جدید انسان کے لیے اتنا زیادہ ناقابل فہم نہیں جتنا اس کا یہ جز ء کہ خدا بذریعہ الہام اپنی مرضی انسان کے پاس بھیجتا ہے۔ اکثر بڑے بڑے سائنس داں کسی نہ کسی شکل میں خدا کو مانتے تھے۔ نیوٹن (1727-1642ء) کے نزدیک نظام شمسی کو متحرک کرنے کے لیے ایک خدائی ہاتھ (divine arm) کی ضرورت تھی۔ چارلس ڈارون (1882-1809ء) آغاز حیات کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader