Urdu book · عقلیات اسلام

الہی قانون

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے ایک خالق (creator) کو ضروری سمجھتا تھا۔ البرٹ آئ سٹائن (1954-1879ء) کو ایک برتر ذہن (superior mind) کی جھلک دکھائی دی جو کائنات کے مظاہر میں اپنے کو ظاہر کر رہا تھا۔ سرجیمس جینز (1946-1877ء) کے مطالعہ نے اسے اس نتیجہ تک پہنچایا ہے کہ کائنات ’’گریٹ مشین‘‘ سے زیادہ ’’گریٹ تھاٹ‘‘ معلوم ہوتی ہے۔ سر آرتھر ایڈنگٹن (1944-1882ء) کے نزدیک جدید سائنس ہمیں اس حقیقت تک پہنچارہی ہے کہ کائنات کا مادہ ایک شے ذہنی ہے: The stuff of the world is mind-stuff. الفرڈ نارتھ وائٹ ہڈ (1947-1861ء) کے نزدیک جدید سائنسی معلومات یہ ثابت کررہی ہیں کہ فطرت ایک زندہ حقیقت ہے، نہ کہ بے روح مادہ (nature is alive)۔ تاہم جہاں تک الہام کا تعلق ہے، مجھے اعتراف ہے کہ خالص علمی اعتبار سے یہ ایک نہایت پیچیدہ عقیدہ ہے۔ یہ ان چیزوں میں سے نہیں جس کا عمومی مشاہدہ کرایا جا سکتا ہو۔ مگر یہ کہنا مبالغہ آمینز نہیں کہ ہمارے تجربہ میں ایسے بہت سے حقائق آتے ہیں جن سے استنباط کیا جا سکتا ہے کہ یہاں ایسی کوئی حقیقت پائی جاتی ہے جس کو الہام سے تعبیر کیا جا سکے۔ جدید میتھڈ لوجی اس کو تسلیم کرتی ہے کہ مستنبط حقائق (infered facts) بھی اتنے ہی یقینی ہو سکتے ہیں جتنے کہ مشہور حقائق (observed facts)۔ اس لیے ہمارے استدلال کی اہمیت اس سے کم نہیں ہوتی کہ وہ مشاہداتی نہیں بلکہ استنباطی نوعیت کے ہیں۔ 19 ویں صدی میں قانون تعلیل (principle of causation) کو خالق کا بدل سمجھ لیا گیا تھا۔ مگر موجودہ صدی میں ایسے بہت سے واقعات سائنس کے علم میں آئے ہیں جن کی توجیہ اسباب مادی کے عام اصول کے تحت نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر ریڈیم کے الیکٹران کا ٹوٹنا، جن کو معلوم قوانین کے تحت بیان کرنے کی ساری کوشش ناکام ہو چکی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page