الہی قانون
Urdu book, p. 221
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ حتی کہ ایک سائنس داں کو کہنا پڑا کہ ریڈیم کے کسی ٹکڑے میں کون سا الیکٹران کس وقت ٹوٹے گا ، اس کا فیصلہ کرنا خداؤں کے اختیار میں ہے ، خواہ وہ جو بھی ہوں : It may rest on the knees of whatever goods there be حیوانات کا مطالعہ بھی یہی بتاتا ہے۔ حیوانات کے بارے میں ثابت ہو چکا ہے کہ ان کے اندر جوحیات (instinct) ہوتی ہے، وہ اکتسابی نہیں۔ مثلاً شہد کی مکھی اپنے چھتے کو ہشت پہل (hexagon) بناتی ہے۔ کسی تربیت نے اس کو نہیں بتایا کہ ہشت پہل خانہ(hexagon shelfe) اس کے مقصد کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہے، حتی کہ وہ اس کی معنویت کا بھی کوئی ذاتی شعور نہیں رکھتی۔ اس کے باوجود وہ اس ریاضیاتی طریق تعمیر میں اس طرح مصروف رہتی ہے جیسے اس سے کسی نے کہہ دیا ہو کہ تم ایسا ہی کرو۔ قرآن کے مطابق، معاملہ ایسا ہی ہے : وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ (16:68) ۔ یعنی، اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی پر وحی کیا۔ اس قسم کے بے شمار واقعات ہیں جو ہمیں اس اغلبیت کی طرف لے جاتے ہیں کہ اشیاء سے باہر کوئی شعور ہے جو اشیاء کو ان کے وظیفۂ حیات کے بارے میں ہدایات دے رہا ہے۔ حتی کہ سر آرتھر ایڈنگٹن نے جدید کوانٹم نظریہ کو الہام کی سائنسی تصدیق قرار دیا ہے۔ قرآن کا یہ بیان بیسویں صدی کے انسان کے لیے شاید اس سے زیادہ قابل فہم ہے جتنا وہ ساتویں صدی کے انسان کے لیے ہوسکتا تھا : وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءِ أَمْرَهَا (41:12) ، اور خدا نے ہر آسمان میں اس کا حکم اتارا۔ اس کے بعد جب ہم انسان کے مسئلہ پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی کے دو حصے ہیں۔ ایک وہ جسے کو حیاتیاتی حصہ کہہ سکتے ہیں۔ دوسرا وہ جسے کو نفسیاتی حصہ کہا جاتا ہے۔ انسانی زندگی کا حیاتیاتی حصہ ٹھیک اسی طرح مکمل طور پر خارجی قوانین کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader