الہی قانون
Urdu book, p. 222
By Maulana Wahiduddin Khan
پابند ہے جس طرح کائنات کی دوسری چیزیں اس کی پیروی کر رہی ہیں۔ وہ چیز جس کو میڈیکل سائنس کہا جاتا ہے، اس کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ان مخفی قوانین فطرت کا پتہ لگائے جس کے تحت انسانی زندگی کا حیاتیاتی حصہ کام کرتا ہے اور اس کو اس حصہ انسانی پر استعمال کرے۔ اب اگر یہ مان لیا جائے کہ وہ قانون فطرت جو ستاروں اور سیاروں سے لے کر انسان کے حیاتیاتی حصہ تک کارفرما ہے، اس کا ماخذ وہ الہام ہے جو کائناتی شعور کی طرف سے ہر ایک کو پہنچ رہا ہے تو اس کے بعد، اسی پر قیاس کرتے ہوئے، یہ ماننا خود بخود آسان ہو جاتا ہے کہ انسان کے نفسیاتی حصہ کے لیے قانون کا تعین بھی اسی شعور کی طرف سے ہو سکتا ہے اور اسی کی طرف سے ہونا چاہیے۔ خالص عقلی نقطہ نظر سے کہا جا سکتا ہے کہ اس استدلال کی بنیاد ایک ’’قیاس‘‘ پر قائم ہے۔ مگر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ انسان کی ساخت کچھ اس ڈھنگ پر ہوئی ہے کہ قیاسی استدلال سے مفر اس کے لیے ممکن نہیں۔ اگر وہ قیاسی استدلال کو تسلیم کرنے سے انکار کرے تو لازماً اس کو تشکیل کی پناہ گاہ میں جانا پڑے گا۔ جو عملی طور پر ناممکن ہے۔ قرآن نے بھی اس معاملہ میں جواب کا یہی انداز اختیار کیا ہے: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا (17:85)۔ یعنی، تم سے وحی کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ وحی خدا کے حکم سے ہے اور تم کو صرف تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ یہاں وحی سے متعلق سوال کے جواب میں دو باتیں کہی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ امر رب ہے جس طرح سارا نظام عالم امر رب (قانون فطرت) کے ماتحت ہے۔ یہ کوئی منفرد چیز نہیں بلکہ انسانی دائرہ میں وہی چیز ہے جس کا مشاہدہ تم کائنات کے دائرہ میں کر رہے ہو۔ دوسرے جزء کا مطلب یہ ہے کہ وحی کو عقلی طور پر سمجھنے کی پہلی شرط یہ ہے کہ تم اس حقیقت واقعہ کو تسلیم کرو کہ انسان کو علم قلیل دیا گیا ہے۔ اس کو علم کثیر نہیں دیا گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader