Urdu book · عقلیات اسلام

الہی قانون

Urdu book, p. 223

By Maulana Wahiduddin Khan

اس واقعہ کو مان کر چلو گے تو وحی کی حقیقت سمجھ جاؤ گے اور اگر اس واقعہ کا انکار کر کے سمجھنا چاہو تو تم اس کو نہیں سمجھ سکتے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ تیرہ سو برس کا اعلان آج سائنس کے جدید ترین مرحلہ میں اپنی صداقت کو مزید شدت کے ساتھ ثابت کر رہا ہے۔ پہلی جنگِ عظیم (18-1914ء) کے ساتھ جس نئے دورِ سائنس کا آغاز ہوا ہے، اس نے قطعیت کے ساتھ تسلیم کر لیا ہے کہ انسان بعض حیاتیاتی اور نفسیاتی محدودیتوں کا شکار ہے، اس لیے وہ سارے حقائق کو اپنے محسوسات کی گرفت میں نہیں لاسکتا۔ ضروری ہے کہ اپنے قلتِ علم کی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے وہ مروجہ سائنسی طریقوں پر بعض ایسے طریقوں کا اضافہ کرے جو انیسویں صدی تک غیر سائنسی سمجھے جاتے تھے۔ آئن سٹائن نے کائنات کے بارے میں جو انقلاب انگیز سائنسی نظریات وضع کیے، اس کے سلسلے میں اس نے اعتراف کیا کہ یہ کام اس طریقہ کی پابندی کر کے نہیں ہوسکتا جو مثال کے طور پر، حرکیات گیس کا نظریہ (Kinetic Theory of Gases) میں کارآمد ہے۔ یہاں اس نے ترکیبی طریقہ (synthetic method) کے بجائے تحلیلی طریقہ (analytical method) سے کام لیا۔ اس نے سائنسی نظریات کی دو تقسیم کیں۔ ایک عمارتی نظریات (constructive theories) دوسرے اصولی نظریات (principle theories)۔ اس نے کہا کہ نظریہ اضافیت (relativity) کو سمجھنے کے لیے صرف دوسرے قسم کا نظریہ ہی کام دے سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس نے کائنات کے گہرے حقائق کو سمجھنے کے لیے سائنسی مشاہدہ کے بجائے ایک قسم کے سائنسی تصور (scientific contemplation) کی وکالت کی۔ چنانچہ ایک پروفیسر نے آئن سٹائن کے نظریہ کا خلاصہ ان لفظوں میں بیان کیا ہے: In dealings with the eternal verities, the area of experiment is reduced and that of contemplation enhanced.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page