الہی قانون
Urdu book, p. 224
By Maulana Wahiduddin Khan
ابدی حقیقتوں کی بحث میں تجربہ کا دائرہ گھٹ جاتا ہے اور تصور کا دائرہ بڑھ جاتا ہے۔ قرآن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک الہامی قانون ہے جو انسان کی رہنمائی کے لیے اتارا گیا ہے۔ یہ بات کہ وہ فی الواقع ایک الہامی قانون ہے، اس کے لیے خود قرآن نے بڑی عجیب دلیل دی ہے۔ اس نے اعلان کیا ہے کہ انسان کبھی بھی اس جیسی کتاب نہ بنا سکے گا، خواہ وہ اس کے لیے کتنی ہی کوشش کر ڈالے: ﴿وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ (2:23)۔ یعنی، اور اگر تم اس کتاب کے بارے میں شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندہ پر اتاری ہے تو اس جیسی ایک سورت بنا کر لے آؤ۔ قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا (17:88)۔ یعنی، کہہ دو! اگر آدمی اور جن اس لیے جمع ہوں کہ ایسا قرآن بنا لائیں تو وہ ہرگز نہ لاسکیں گے خواہ وہ سب ایک دوسرے کی مدد گار ہوں۔ انسائیکلو پیڈیا آف فلسفی کے مقالہ نگار کے الفاظ میں، فلسفیانہ اعتبار سے جو بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ وہ کیا معیار ہے جس پر الہام کے دعوے کو جانچا جاسکے: The main philosophical question that arises concerns the criteria by which revelation claims may be judged. قرآن کے سلسلے میں اگر ہم ایسا کر سکیں کہ اس کے مذکورہ بالا دعوے کو اس جانچ کا معیار مان لیں تو یہ معیار حیرت انگیز طور پر یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ خدائی الہام ہے۔ پچھلی 13 سو برس کی تاریخ میں قرآن اور اسلام کے بے شمار دشمن پیدا ہوئے۔ وہ اس چیلنج کے جواب میں قرآن جیسی ایک کتاب عربی زبان میں تیار کر کے نہایت آسانی سے اس کو شکست دے سکتے تھے۔ اور یقیناً بہت سے لوگوں نے اس کی کوششیں بھی کیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ مسیلمہ (وفات 633ء) اور ابن مقفع (724-761ء) سے لے کر صلیبی جنگوں (1271-1095ء) کے بعد پیدا ہونے والے مسیحی مستشرقین تک کوئی بھی اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader