الہی قانون
Urdu book, p. 225
By Maulana Wahiduddin Khan
اب تک کے مطالعہ نے ہمیں جہاں پہنچایا ہے، اس میں اگر ایک اور قرینہ کو ملا لیا جائے تو شاید یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ زیر بحث مسئلہ بڑی حد تک قابل فہم ہو جاتا ہے۔ وہ یہ کہ الہی قانون نے جو قانونی اصول اب سے ڈیڑھ ڈھیر ہزار برس پہلے متعین کیے تھے، وہ حیرت انگیز طور پر اب بھی اپنی صحت کو باقی رکھے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس درمیان میں وضعی قانون نے اس کو رد کر کے جو متبادل اصول مقرر کیے تھے وہ دو سو سالہ تجربہ میں ناکام ثابت ہو گئے اور اب علم کا دریا دوبارہ اس سمت میں جا رہا ہے جہاں اس نے الہی قانون کو چھوڑا تھا۔ وضعی قانون کے مقابلہ میں الہی قانون کی یہ ابدیت اسی وقت قابل فہم ہو سکتی ہے جب کہ یہ مانا جائے کہ اس کا سر چشمہ انسانی ذہن کے باہر کسی ابدی ذہن میں پایا جاتا ہے۔ میں یہاں چند مثالیں دوں گا: 1۔ الہی قانون میں فرد کی آزادی کو خدائی حکم کے پابند کیا گیا ہے: يَقُولُونَ هَلْ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ (3:154) ۔ یعنی، کہتے ہیں کیا امر کچھ ہمارے ہاتھ میں بھی ہے۔ کہہ دو امر سب کا سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یورپ کی نشاة ثانیہ کے بعد عالمی ذہن میں جو انقلاب آیا، اس نے اس اصول کو غلامی سے تعبیر کیا۔ اس نے اعلان کیا کہ آزادی سب سے بڑی انسانی قدر ہے۔ فرانس کے انقلاب (1789ء) سے لے کر اب تک اس اصول کو دو سو برس تجربہ کرنے کا موقع ملا۔ مگر اس تجربہ کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ اب ایسے محققین پیدا ہو رہے ہیں جو فرد کی آزادی کو بے معنی قرار دے رہے ہیں۔ پروفیسر اسکنر (1990-1904ء) کا کہنا ہے کہ ــــ ہم آزادی کا تحمل نہیں کر سکتے: We can't afford freedom. اٹھارویں اور انیسویں صدی کے مفکرین کے برعکس اسکنر (B. F. Skinner) کا کہنا ہے کہ آزادی کوئی خیر اعلیٰ (summum bonum) نہیں۔ انسان کو لامحدود

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader