الہی قانون
Urdu book, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
آزادی نہیں بلکہ پابندِ نظام (disciplined culture) چاہیے۔ انسانی فکر کی یہ واپسی الہیٰ قانون کی ہدایت کا بالواسطہ اعتراف ہے۔ 2۔ الہی قانون کی رو سے مرد اور عورت کا دائرۂ کار الگ الگ ہے اور عملی زندگی میں مرد کو عورت پر فوقیت دی گئی ہے: الرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ (4:34) ۔ یعنی، مرد قوام ہیں عورتوں کے اوپر۔ وضعی قوانین نے اس اصول کو مکمل طور پر غلط قرار دیا۔ مگر سو برس کے تجربہ نے بتایا کہ الہی قانون ہی اس معاملہ میں حقیقت سے قریب تر ہے۔ آزادی نسواں کی تحریک کی تمام تر کامیابیوں کے باوجود آج بھی ’مہذب‘ دنیا میں وہی جنس برتر (dominant sex) کی حیثیت رکھتا ہے۔ آزادی نسواں کے علم بردار یہ کہتے تھے کہ عورت اور مرد کا فرق محض سماجی حالات کی پیداوار ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں، مختلف متعلقہ شعبوں میں، اس مسئلہ کا جو گہرا مطالعہ کیا گیا ہے، اس سے ثابت ہوا ہے کہ صنفی فرق کے پیچھے حیاتیاتی عوامل (biological factors) کارفرما ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر جیروم کاگن (پیدائش 1929ء) کے مطالعہ نے اسے بتایا ہے: Some of the psychological differences between men and women may not be the product of experience alone but of subtle biological differences. p. 33 مرد اور عورتوں میں بعض نفسیاتی فرق محض معاشرتی تجربات کی وجہ سے نہیں ہو سکتے، بلکہ وہ لطیف قسم کے حیاتیاتی فرق کی پیداوار ہیں۔ ایک امریکی سرجن Edgar Berman کا فیصلہ ہے کہ "عورتیں اپنی ہارمون کیمسٹری کی وجہ سے اقتدار کے منصب کے لیے جذباتی ثابت ہوسکتی ہیں“: Because of their hormonal chemistry women might be too emotional or positions of power. (Time Magazine. March 20. 1972, p.28)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader