Urdu book · عقلیات اسلام

الہی قانون

Urdu book, p. 227

By Maulana Wahiduddin Khan

امریکہ میں آزادی نسواں کی تحریک کافی طاقتور ہے مگر اب اس کے حامی محسوس کرنے لگے ہیں کہ ان کی راہ کی اصل رکاوٹ سماج یا قانون نہیں بلکہ خود فطرت ہے۔ فطری طور پر ہی ایسا ہے کہ عورت بعض حیاتیاتی محدودیت (limitations of biology) کا شکار ہے۔ میل ہارمون اور فیمیل ہارمون کا فرق دونوں میں زندگی کے آغاز ہی سے موجود ہوتا ہے۔ چنانچہ تحریک نسواں کے پرجوش حامی کہنے لگے ہیں کہ فطرت ظالم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ پیدائشی سائنس (science of eugenics) کے ذریعے جینٹک کوڈ کو بدل دیں اور نئے قسم کے مرد اور نئی قسم کی عورتیں پیدا کریں۔ یہ ہے وہ آخری انجام جو امریکی عورت کے نعرہ پالیسی بناؤ کافی نہ بناؤ‘‘ (make کا دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک میں ہوا ہے۔ policy not coffee) یہ واقعہ اس بات کا ایک تجرباتی قرینہ ہے کہ وضعی قانون کے مقابلہ میں الہی قانون میں فطرت کی رعایت زیادہ پائی جاتی ہے۔ 3۔ الہی قانون میں سزا کا خاص مقصد نکال (دوسروں کے لیے عبرت) بتایا گیا ہے (البقرہ، 66: 2)۔ اسی لیے الہی قانون نے بعض بڑے جرائم کی نہایت سخت سزائیں مقرر کی ہیں تا کہ ایک کا انجام دیکھ کر دوسرے اس سے رک جائیں۔ مگر جدید دور میں اس کو رد کر دیا گیا۔ پہلا نمایاں شخص جس نے مجرمین کی سزا میں تخفیف کی وکالت کی وہ اٹلی کا ماہر مجرمیاتی کیساری بیکریا (1794-1738ء) تھا۔ اس کے بعد سے اب تک مجرمیات (criminology) کے موضوع پر بہت کام ہوا ہے۔ ماہرین کا عام طور پر یہ خیال ہو گیا تھا کہ جرم کوئی ارادی واقعہ“ نہیں، اس کے اسباب حیاتیاتی ساخت، ذہنی بیماری، معاشی تنگی، سماجی حالات وغیرہ میں ہوتے ہیں۔ اس لیے مجرم کو سزا دینے کے بجائے اس کا علاج کرنا چاہیے‘‘ کرنا چاہیے۔ حتی کہ تین درجن سے زیادہ ایسے ملک ہیں جنھوں نے موت کی سزا کو اپنے یہاں ختم کر دیا ہے۔ اگر چہ یہ خاتمہ بھی صرف اخلاقی جرائم کی حد تک ہوا ہے۔ سیاسی اور فوجی جرائم کے سلسلے میں اب بھی ہر ملک ضروری سمجھتا ہے کہ مجرم کو سخت ترین سزا دی جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page